سو پاکستانی، بھارتی شہری بن گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست راجھستان میں سو پاکستانیوں کے ایک گروپ نے جن میں زیادہ تعداد پاکستان کےصوبے سندھ سے تعلق رکھنے والے ہندوں کی ہے بھارت کی شہریت اختیار کر لی ہے۔ پاکستانیوں کو بھارت کی شہریت دیے جانے کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ان لوگوں نے بھارت سے وفاداری نبھانے کی قسم کھائی اور پاکستان کی شہریت کو چھوڑنے کا اعلان کیا۔ یہ تقریب تقریباً پانچ ہزار پاکستانیوں کو بھارت کی شہریت دینے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ ان پانچ ہزار پاکستانیوں نے گزشتہ دو تین دہائیوں میں بھارت ہجرت کر لی تھی۔ اس تقریب میں ان پاکستانیوں نے بھارت کے آئین کی پاسداری کرنے اور بھارت سے وفاداری نبھانے کی قسم کھائی اور کہا کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے تنگ آ کر بھارت ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ پاکستان کے علاقے عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والی مدن کنور رنوت نے بھارت کی شہریت اختیار کرنے پر کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ اب وہ قانونی طور پر بھارت کی شہری بن گئی ہیں۔ رنوت کا تعلق عمر کوٹ کے سودہا راجپوت خاندان سے ہے۔ ان لوگوں میں لاہور سے تعلق رکھنے والی نسیم اختر بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک بھارتی مسلمان سے شادی کر رکھی ہے۔ نسیم اختر کی شادی انیس سو اسی میں ہوئی تھی اور وہ جب سے بھارت میں طویل المعیاد ویزے پر قیام پذیر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ سکون سے اپنے شوہر کے ساتھ بھارت میں رہ سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||