ولدیت کے دعویدار، بچہ قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچّہ ایک ہے لیکن اس کی ولدیت کے دعویدار دو ہیں۔ ایک کے مطابق وہ حسنین ہے دوسرا اسے شنکر کہتا ہے۔ حکام کے فیصلے کے مطابق دونوں دعویداروں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرا کر اصل والدین کا تعین کیا جانا ہے۔ دو سال بیت چکے ہیں اور یہ بچّہ اس ٹیسٹ کے انتظار میں ریاست بہار کے شمالی شہر مظفرپور کے ریمانڈ ہوم میں سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مظفرپور کی ایک سماجی اور ثقافتی تنظیم ’میڈیا کلب’ نے حال ہی میں اس بچّے کو ریمانڈ ہوم سے نجات دلانے کے لیے پٹنہ ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی ہے۔ اس ریمانڈ ہوم میں فی الوقت قتل و اغواء کے کم عمر ملزم بھی رہ رہے ہیں۔ میڈیا کلب کے جنرل سکرٹری سید مظہرالحسن کے مطابق دو سال قبل یہ لڑکا اس وقت چرچہ میں آیا جب اسکی ولدیت کو لیکر دو خاندان سیتامڑھی کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے پاس پہنچے۔ بات چیت سے اس مسئلے کو حل ہوتے نہ دیکھ انہوں نے مقامی پولیس کو ڈی۔این۔اے ٹسٹ کرانے کا حکم دیا۔ مقامی پولس نے ٹیسٹ ہونے تک اس بچّے کو مظفرپور ریمانڈ ہوم بھیج دیا ہے۔ ریمانڈ ہوم کے ہاؤس کیپر سبھاش پرساد کے مطابق انکی ذمہ داری بچّوں کے تحفظ تک محدود ہے اور وہ مجوزہ ٹیسٹ میں تاخیر کی وجہ نہیں بتا سکے۔ مظفرپور کے ضلعی ویلفیئر افسر آنند پرکاش ورما کہتے ہیں کہ یہ معاملہ سیتامڑھی ضلع کا ہے اور انہوں نے متعلقہ فائل کا ابھی مطالعہ نہیں کیا ہے۔ سیتامڑھی کے جو اہلکار اس معاملے سے جڑے تھے انکا تبادلہ ہو چکا ہے اور موجودہ اہلکار ہڑتال اور انتخابات میں اس قدر مصروف ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق یہ بچّہ دو سال پہلے سیتامڑھی ضلع کے شمسہ گاؤں کے نورالحسن کے گھر ملا تھا۔ جب بات مشتہر ہوئی کہ یہ لڑکا نورالحسن کا نہیں بلکہ کسی نے اسے لاوارث سمجھ کر ان کے سپرد کر دیا تھا۔ یہ خبر سرحد پر واقع نیپال کے سرلاہی ضلع کے رام درس سہنی تک پہنچی تو انہوں نے گاؤں آکر دعوی کیا کہ یہ انکا بچّہ ہے جو سونبرسا کے میلے میں کھو گیا تھا۔ ثبوت کے طور پر وہ اپنے چھوٹے لڑکے کو پیش کر رہے تھے جسکی شکل و شباہت اس سے ملتی تھی۔ مقامی پولس نے اس دعوے پر اس بچّے کو رام درس کے حوالے کر دیا۔ چند دنوں کے بعد بیگو سرائے ضلع کے شمسہ گاؤں کے محمد غلام رسول کو کسی نے اس لڑکے کی کہانی سنائی تو وہ بھی سیتامڑھی کے اس گاؤں پہنچے جہاں سے اس بچّے کو نیپال بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے مقامی تھانیدار کو اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کا حوالہ دیکر دعوی کیا کہ وہ بچّہ انکا ہے۔ غلام رسول اس بچّے کو اپنا ثابت کرنے کے لیے اسکے ختنے کو بطور دلیل پیش کر رہے تھے۔ بچّے کو نیپال سے واپس بلایا گیا۔ ختنے کی بات صحیح ہونے پر معاملہ سب ڈویژنل افسر کے پاس پہنچا اور انہوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کرا کر ولدیت طے کرنے کا حکم دیا۔ ہم نے جب اس بچّے سے ملاقات کی اس نے اپنا نام حسنین بتایا۔ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے ہاتھ کھینچ لیا اور بھاگتے ہوئے ہینڈ پمپ کے پاس ہاتھ صاف کرنے لگا۔ کسی نے بتایا کے وہ چولہے کے لیے کوئلے توڑ رہا تھا۔ پڑھنے اور کھیلنے کی بابت پوچھنے پر وہ گم سم بنا رہا۔ کھانے کے بارے میں پوچھنے پر اس نے کہا اتفاق کی بات یہ بھی ہوئی کہ جس گاؤں سے غلام رسول کا تعلق ہے اسی نام کے گاؤں میں یہ بچّہ ملا مگر دونوں گاؤں دو مختلف اضلاع میں ہیں۔ ہم نے کچھ تصویریں اتاریں اور چلنے لگے تو اس بچّےنے پوچھا ’ہم کب چھوٹیں گے؟’ میڈیاکلب کے سیکرٹری نے اسےدلاسا دلایا ’ جلد ہی‘۔ اس نے ہم سے پوچھا ’ فوٹو دیجیۓ گا؟‘ ہم وعدہ کر لوٹ آئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||