’حقیقی ویر زارا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کےاشتیاق احمد اور کلکتہ کی صوفیہ کی کہانی ہندی سینما کی ایک فلمی داستان لگتی ہے۔ دیکھا جائے توان دونوں کی کہانی حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم ’ویر زارا‘ کا حقیقی عکس ہے۔ سرحد کے دونوں طرف جنم لینے والی محبت کی اس داستان کی ابتدا دورِ جدید کے ایک چیٹ روم میں ہوئی۔ تیس سالہ اشتیاق احمد کا تعلق پاکستان کے شہر پشاور سے ہے اور ان کے والد پھلوں کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ ان کی تئیس سالہ اہلیہ صوفیہ کلکتہ کے ایک مشہور جوہری خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اگرچہ اس ملن کے لیے اشتاق نے اپنا ملک چھوڑا ہے لیکن درحقیقت صوفیہ نے اس شادی کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہے۔ صوفیہ اور اشتیاق کی پہلی ملاقات ایک برس قبل انٹرنیٹ پر ایک چیٹ روم میں ہوئی۔ کمپیوٹر کے ذریعے ایک دوسرے کو جاننے کے بعد جولائی میں دونوں نے ٹیلیفون پر باہمی رابطہ قائم کیا۔لیکن دونوں پہلی بار اپنی شادی کے روز ملے۔ اشتیاق اور صوفیہ میں سے کسی نے بھی اپنے گھر والوں کو اس شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ دونوں خاندانوں کا ردعمل بہت سخت تھا اور اگرچہ اب اشتیاق کے والد اس شادی پر مان گئے ہیں مگر صوفیہ کے خاندان والے آج بھی اس شادی کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔ صوفیہ نے بتایا کہ’ وہ بہت زیادہ مشتعل ہیں۔ میں نے ان سے خود بات نہیں کی ہے کیونکہ میرے دوستوں نے مجھے انہیں فون کرنے سے منع کیا تھا‘۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’میرے گھر والوں کا خیال ہے کہ ان کی بہت بدنامی ہوئی ہے‘۔ صوفیہ کا کہنا تھا کہ ’میں خوش ہوں لیکن ایک قسم کی اداسی بھی ہے‘۔
صوفیہ اور اشتیاق کی اس کہانی کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ پشاور کی رہائشی اشتیاق کی والدہ نے بھی 1966 میں کلکتہ کے باسی مشتاق احمد سے شادی کی تھی۔ 1990 میں ان دونوں میں علیحدگی ہوگئی اور نرگس بیگم اشتیاق کو لے کر پاکستان چلی گئیں۔ پاکستان میں اشتیاق نے شہریت تو حاصل کر لی مگر بھارت واپسی کی خواہش ان کے دل میں پنپتی رہی۔ لڑکپن میں دو مرتبہ انہوں نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔فروری 2004 میں وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اپنے والد سے ملنے کے لیے بھارت آئے تھے۔ اگرچہ اشتیاق اور صوفیہ کا تعلق کئی ماہ پہلے استوار ہو چکا تھا لیکن اشتیاق کو کلکتہ آنے کے بعد پہلی بار یہ پتہ چلا کہ ان کے والد اور صوفیہ ایک ہی محلے یہاں تک کہ ایک ہی گلی میں رہائش پذیر ہیں۔ صوفیہ اور اشتیاق نے اس اتفاق کو تائیدِ خداواندی سے تعبیر کیا اور اشتیاق نے بھارت میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اگرچہ ان کے ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ اگرچہ اشتیاق نے بھارتی شہریت کے لیے درخواست دے دی ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی روشنی میں اس عمل میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ جہاں دو مختلف قومیتوں اور معاشرتی طبقات سے تعلق اشتیاق اور صوفیہ کے لیے مشکلات کھڑا کر رہا ہے وہاں مذ ہب دونوں کو یکجا کرنے کا باعث ہے۔ دونوں سنی العقیدہ مسلمان ہیں لیکن صوفیہ کا خاندان ایک کٹّرمسلم گھرانا ہے۔صوفیہ کے گھرانے میں آج بھی پردے کا رواج ہے۔ صوفیہ نے اپنے گھر والوں سے اشتیاق کے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ بات ان کے لیے ناقابلِ قبول ہوگی۔ درحقیقت صوفیہ کے والدین نےاس کے لیے رشتہ بھی تلاش کر لیا تھا اور اس بات نےہی صوفیہ اور اشتیاق کو آپس میں کبھی ملاقات نہ ہونےکے باوجود شادی کے فیصلہ پر مجبور کر دیا۔ وہ دونوں اگرچہ نہ ہی ملاقات کرسکتے تھے اور نہ ہی فون پر بات چیت لیکن شادی سے پہلے دونوں ایکدوسرے کو ایک بار دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ دونوں نے ایک بازار میں ملنے کا فیصلہ کیا۔ جب صوفیہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ بازار گئی تو ایک مقررہ دکان پر اشتیاق موجود تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو کپڑوں کی مدد سے پہچانا۔ ایک ہفتے بعد وہ دونوں ٹیپو سلطان مسجد میں ملے جہاں ان کی شادی سرانجام پائی۔ اشتیاق اور صوفیہ کا کہنا تھا کہ شادی سے پہلے نہ ملنا او دونوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اشتیاق کا کہنا تھا کہ’ آپ کسی کو ایک لمحے کے لیے مل کر بھی اس کی روح کو پا سکتے ہیں‘۔ آج کل یہ جوڑا کلکتہ میں اس امید کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہا ہے کہ ایک دن صوفیہ کے گھر والے ان کی محبت کو تسلیم کر لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||