ہندوستان کی عکاس ممبئی لوکل ٹرینیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر مکمل بھارت دیکھنا ہو تو وہ ممبئی کی لوکل ٹرین میں سفر کرضروری ہے۔ اس میں آپ کو کشمیر سے کنیا کماری تک کے لوگ اپنی اپنی مادری زبان بولتے ہوئے مل جائیں گے۔ لوکل ٹرینوں کو ممبئی کی ’لائف لائن‘ کہا جاتا ہے۔ بھاگتی دوڑتی اور کبھی نہ تھکنے والی ممبئی کی زندگی میں اگر یہ ٹرینیں رک جائیں تو ممبئی بھی تھم جاتی ہے۔ صبح چار بجے سے رات ڈیڑھ بجے تک یہ ہر مسافر کو بلا لحاظ مذہب و ملت اس کی منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے دوڑتی رہتی ہے ویسٹرن ریلوے، سینٹرل ریلوے اور ہاربر لائن پر روزانہ دو ہزار سے زائد گاڑیاں چلتی ہیں۔ ریلوے حکام کےمطابق ان ریل گاڑیوں میں پینسٹھ لاکھ مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں اور ریلوے کو ان سے ڈھائی کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ممبئی میں ہر ملازمت پیشہ شخص کی آدھی سے زیادہ زندگی سفر کرتے گزر جاتی ہے۔ اپنی مصروف زندگی سے خریداری کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے اس لیے اکثر مرد اور خواتین دفتر سے گھر جاتے ہوئے سبزی اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان خریدتے ہیں۔ سیکنڈ کلاس ڈبے میں بیٹھی اوسط طبقہ کی خواتین ٹرین کے ڈبے میں ہی سبزی توڑتی ہیں اورلہسن چھیل لیتی ہیں۔ ایک ہی وقت میں ٹرین میں سوار ہونے سے کئی بار ایک دوسرے مسافر سے جان پہچان ہو جاتی ہے اور وقت گزاری کے لیے وہ باتیں کرتے ہیں۔ ٹرین میں مرد اکثر تاش کھیلتے ہیں۔ لیکن بھجن گانے والوں کی منڈلیاں بھی ہوتی ہے جو ویرار سے چرچ گیٹ تک صبح شام بھگوان کو یاد کر کے وقت کاٹتے ہیں ۔ ریل گاڑیاں میں یہ یہ بھیڑ بھاڑ جیب کتروں کے لیے بہت مفید ہوتی ہے اور ان کے مختلف گینگز بھیڑ کے اوقات میں ایک گروپ کے ساتھ ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوتے ہیں اور جس کا انہیں پاکٹ مارنا ہوتا ہے اسے گھیرکرکھڑے ہوجاتےہیں اور آسانی سے جیب موبائیل اور پرس نکال لیتے ہیں اور آپ ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔ ریلوے میں جب جرائم بڑھے تو ریلوے پولس کا قیام عمل میں آیا۔ حال ہی میں پولس نے ایک ایسی چور عورت کو پکڑاہے جس نے یہی کام کر کے فلیٹ خرید لیا اور اس کے بچے مشہور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ ٹرین میں فلمی گانا گا کر بھیک مانگنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ اسی منظر کو فلم ’آنکھیں‘ میں پریش راول پر فلمایا گیا تھا۔ ٹرین میں سامان فروخت کرنے پر پابندی ہے لیکن ڈبوں میں سامان بیچنے والے چڑھتے ہیں اور لوگ خریدتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انہیں پھر پولیس کو اس کے لیے ہفتہ دینا ہوتا ہے۔
ٹرین میں افراتفری کا ماحول ہوتا ہے اور ہر کسی کو اپنی منزل تک پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے۔ایک دوسرے میں دھکا مکی ہوتی ہے اور کبھی تو بات دھینگا مشتی تک پہونچ جاتی ہے۔ ہر شخص بیٹھنے یا کھڑے ہونےکی جگہ حاصل کرنےکی کوشش کرتا ہے۔ سینڑل ریلوے سے سفر کرنے والا ایک شخص روزانہ اپنے ساتھ دو تھیلے بھر کر پانی لے کر چلتا ہے اور آواز لگاتا ہے اللہ کے نام کا بھگوان کے نام کا پانی پیو کیونکہ وہ کسی کو بھی اپنا مذہب نہیں بتاتا ۔اس کے ساتھ دوائیں اور لونگ بھی ہوتی ہیں جو ایمرجنسی میں کام دیتی ہیں۔ خواتین کے لیے مخصوص ڈبوں میں بھی بے انتہا بھیڑ ہوتی ہے۔ ایسے میں اکثر حاملہ خواتین کو درد زہ اٹھ جاتا ہے خواتین دوسری عورت کی مدد کرتی ہیں۔آج تک ٹرین میں زچگی کا کوئی کیس خراب نہیں ہواہے۔ انتہائی مصروف ترین اوقات میں ہر کسی کو جلدی ہوتی ہے۔اگر کسی کوٹرین کے ڈبے میں جگہ نہیں مل پاتی ہے تو یا تو دروازے میں لٹک کر یا ٹرین کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کئی بار ایسی حالت میں کھمبے سے ٹکرا کر یا الیکٹرک شاٹس لگ کر مسافرہلاک ہو جاتے ہیں۔ کئی بارجلدی جلدی میں پٹریاں پار کرتے ہوئے بھی مسافر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ویسٹرن ریلوے چیف پی آر او شیلیندر کمار کے مطابق ٹرین سے گر کر ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد کے بارے میں تو وہ نہیں بتا سکتے۔ لیکن پٹریاں پار کرنے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی اوسط شرح سات سے آٹھ ہے اور اگر سینٹل ریلوے کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو اوسطً پندرہ افراد روزانہ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ۔
ممبئی کی لوکل ٹرینوں کا روپ جلد ہی بدلنے والا ہے۔ کیونکہ برسوں سے التواء میں پڑے میٹرو ریل پروجیکٹ کو حکومت مہاراشٹر نے منظوری دے دی ہے۔23 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والا یہ پروجیکٹ سن دو ہزار گیارہ تک مکمل ہو جائے گا اورشاید اسی کے ساتھ ممبئی کے لوگوں کو سکھ کا سانس بھی آئے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||