’گودھرا ٹرین کی آگ حادثاتی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مرکزی حکومت کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے گودھرا کی ٹرین میں لگنے والی آگ کو حادثاتی قرار دیا ہے۔ جسٹس یو سی بینرجی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تین مہینے کی تحقیقات کے بعد اپنی عبوری رپورٹ پیر کو ریلوے کی وزارت کو پیش کی ۔ جسٹس بینرجی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ باہر سے ٹرین کے ڈبے پر کوئی جلنے والا مادہ یا کیمیائی مواد پھینکنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ جس ڈبے میں آگ لگی تھی اس میں ملازمین سوار تھے اور ان میں سے بیشتر ترشول سے مسلح تھے ۔ اس لۓ ایسے ڈبے میں اندر سے بھی کسی شرارت کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ جسٹس بینرجی نے کہا کہ یہ آگ ایک حادثے کا نتیجہ تھی اور اس میں کسی سازش کا عمل دخل نہیں ہے۔ رپورٹ میں باہر سے کسی آتشگیر مادے کو پھینکنے یا فرش پر اس طرح کا مادہ پھینکنے کے نظریے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس بینرجی نے کہا کہ دستاویزی اور زبانی شواہد سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ٹرین میں پہلے آگ لگنے کی بو محسوس کی گئی تھی اور پھر بعض مسافروں نے دھواں اٹھتے بھی دیکھا تھا جس کے بعد آگ لگی تھی۔ جسٹس بینرجی نے گودھرا کے اس سنگین واقع میں کسی سازش کو محض ذہنی اختراع یا ایک جھوٹا تصور قرار دیا ہے۔ اس عبوری رپورٹ کے مطابق سابرمتی ٹرین کی کوچ ایس 6 میں یہ آگ اندر سے ہی لگی تھی اور غالبًا کوچ کے اندر کھانا پکانے سے لگی تھی۔ گجرات پولیس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ایک ہجوم نے 27 فروری سن 2002 کے اس واقع سے پہلے ایک باقاعدہ میٹنگ کی تھی اور بعض افراد نے پٹرول خریدا اور ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے ایک ہجوم نے گودھرا میں اس ٹرین پر حملہ کر دیا۔ اس واقع میں تقریبا ڈیڑھ سو مسلمانوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سو سے زیادہ افراد جیل میں قید ہیں ۔ ان میں گودھرا کی کئی معزز اور محترم ہستیاں بھی شامل ہیں ۔ تحقیقاتی کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ گودھرا کے واقعہ کے بعد نہ تو ریلوے کے وزیر نتیش کمار اور نہ ہی بور ڈ کے ارکان نے موقعہ کا دورہ کیا اور نہ ہی زخمی مسافروں سے ملاقات کی ۔ کمیشن نے اس بات پر حیرت ظاہر کی ہے کہ مغربی ریلوے نے ابتدائی جائزہ تک نہیں لیا تھا اور فورًا ہی یہ قرار دیا کہ یہ سماج دشمن عناصر کی کارروائی تھی ۔ گودھرا کے اس واقع کے بارے میں ابتدا سے ہی کئی حلقوں کی جانب سے گجرات پولیس کے اس خیال پر شکوک ظاہر کئے جاتے رہے ہیں کہ یہ ایک سازش تھی۔ لیکن یہ رپوٹ سیاسی رنگ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ یہ تحقیقاتی کمیشن ریلوے کے محکمے نے تشکیل دیا ہے جس کے وزیر لالو پرساد یادو ہیں ۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ عبوری رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب بِہار میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ریلوے کے سابق وزير نتیش کمار کا تعلق بھی بہار سے ہے اور وہ لالو پرساد یادو کے سب سے بڑے حریف ہیں ۔ گودھرا کے سو سے زیادہ افراد اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گزشتہ تین برس سے جیل میں ہیں۔ گودھرا کے اس واقعہ کے بعد پورے گجرات میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے جن میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق تقریبا دو ہزار مسلمان مارے گئے تھے۔ ان میں سے تقریبا ایک بھی معاملے میں کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ماضی میں بھی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے فسادات میں شاید ہی کسی کو سزا ملی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||