’گودھرا تحقیقات‘ شروع ہو گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھات میں ایک اعلی سطح کی کمیٹی نے دو برس قبل گجرات میں ایک ٹرین کو آگ لگانے کے واقعہ کی نئی تحقیقات شروع کی ہیں ۔ اس واقعہ کی وجہ سے ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یو سی بینرجی کی قیادت میں ایک ٹیم نےگودھرا قصبے کا دورہ کیا جہاں فروری 2002 میں اس ٹرین کو مبینہ طور پر مسلمانوں کے ایک گروہ نے آگ لگا دی تھی۔ اس ٹرین میں کٹر ہندو مذہبی کارکن سوار تھے ۔ اس ٹیم میں الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئروں کے ساتھ فائر سیفٹی کے ماہرین بھی تھےجنہوں نے ریل کے جلے ہوئے ڈبے دیکھے۔ انہوں نے اس مقام کا بھی دورہ کیا جہاں آگ لگانے سے پہلے ٹرین کو ز بردستی روکا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ریلوے کے مقامی اور ضلعی افسران سے بھی پوچھ گچھ بھی کی۔ اس واقعہ کے بعد ہونے والے فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ نئی تحقیقات کا حکم نئے ریلوے وزیر لالو پرساد یادو نے دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||