BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 September, 2004, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گودھرا سانحے کی ازسر نو تفتیش

گجرات میں فروری دو ہزار میں ہونے والے فسادات میں کئی ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے
گجرات میں فروری دو ہزار میں ہونے والے فسادات میں کئی ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے
بھارت کی ریاست گجرات میں فروری سن دو ہزار دو میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کی از سر نو تحقیقات کرانے کے لیے بھارتی حکومت نے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

اس کمیٹی کی صدارت سپریم کورٹ کے ایک سبکدوش جج امیش چندر بینیرجی کریں گے جب کہ کمیٹی میں بجلی، میکینیکل انجینیرئنگ اور آتش زنی کے واقعات کے ماہرین جیسے تینوں شعبوں کے لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کے لیے تین ماہ کی مدت دی گئی ہے۔

نئی دہلی میں کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ نئی کمیٹی تفتیش مکمل کرنے کے بعد حکومت کو ریل کی حفاظت، حادثات کی صورت میں امدادی کاموں اور اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر جیسی بہت سے سفارشات بھی دیگی تاکہ ریلوے کے حفاظتی نظام کو مزید موثر بنایا جاسکے۔

تفتیش کے ذریعے اس بات کا خصوصی طور پر پتہ لگانے کی کوشش کی جائیگی کہ 27 فروری سن دو ہزار دو میں گودھراکے ایک ریلوے اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس کے ڈبے میں آگ کیسے لگی تھی۔ کمیٹی جہاں سے ٹرین چلی اور گودھرا، جہاں سانحہ پیش آیا کے درمیان رونما ہونے والے تمام واقعات کا جائزہ لے گی اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کرئے گی کہ کہیں آگ کا سبب راستے میں ہوئے مختلف واقعات تو نہیں تھے۔

اس سے قبل ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو نےایک بیان میں کہا تھا کہ گودھرا کی مختلف فائلیں دیکھ کر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹرین میں آگ لگنے کے اسباب اور وجوہات وہ نہیں ہیں جو اب تک بتائے جا تے رہے ہیں اسی لیے انہوں نے اس کی ازسرنو تفتیش کرانے کااعلان کیا تھا۔

مرکزی حکومت نے اسی فیصلے کے نیتجے میں یہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔

گجرات کی ریاستی حکومت کی جانب سے ابھی اس فیصلے پر کوئي ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

پارٹی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا کہ جب ایک کمیشن اس معاملے کی پہلے سے تفتیش کر رہا ہے تو دوسری کمیٹی کا بنایا جانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

گودھرا ٹرین کے واقعے میں 59 ہندو کار سیوک ایک ڈبے میں آگ میں زندہ جل کر ہلاک ہوگئے تھے ۔مقامی پولیس نے اس سلسلے میں گودھرا کے متعدد با اثر اور محترم شخصیات سمیت تقریبا سو مسلمانوں کو گرفتار کیا تھے۔ یہ سبھی مسلمان انسداد دہشت گردی قانون یعنی پوٹا کے تحت گرفتار کیے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹرین پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حملہ کیا گيا تھا جب کہ ملزمان کہتے ہیں کہ ان کا اس واقعہ میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد