گجرات کے فسادات نے ہروایا: واجپئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے تسلیم کیا ہے کہ گجرات میں ہونے والے مذہبی فسادات انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی کی شکست کا سبب تھے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں جو کچھ ہوا وہ شرمناک تھا اور ایسے واقعات پھر نہیں ہونے چاہیں۔ وہ ہماچل پردیش میں منالی کے مقام پر ایک ہفتے کی چھٹی منانے کے لیے پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ واجپئی نے کہا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ بی جے پی کا شکست کے مکمل اسباب کیا کیا تھے تاہم یہ ضرور ہے کہ گجرات میں ہونے والے مذہبی فسادات کا ایک نتیجہ انتخابات میں بی جے پی کی شکست کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ان سے سیدھا سوال کیا گیا تھا کہ، کیا گجرات کے فسادات انتخابات میں بی جے پی کی شکست کا سبب تھے؟ ان کا کہنا تھا کہ گجرات کے فسادات کی وجہ سے لوگوں کے جـذبات بھڑکے ہوئے تھے جس کا اپوزیشن نے فائدہ اٹھایا اور وہ گجرات فسادات کا سیاسی فائدہ اٹھانے پر اپوزیشن کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے کیونکہ یہ سیاست ہے اور سیاست میں ایسا ہوتا ہی ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ گجرات میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک تھا اور ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونا چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جانے چاہیں جن کے نتیجے میں مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بی جے پی کے کسی سرکردہ رہنما نے انتخابات میں شکست کا سبب گجرات کے فسادات کو قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی کے صدر ونکیا نائیڈو بھی کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں بی جے پی کی ہار سے گجرات کے فسادات کا کوئی تعلق نہیں ۔ ان کے علاوہ سابق نائب وزیراعظم لال کشن اڈوانی بھی گجرات فسادات کو بی جے پی کی ہار کا سبب تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے ہہ شائنگ انڈیا کا نعرہ الٹا پڑ گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||