گجرات فسادات کی یاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں گودھرا کے مقام پر دو سال قبل ٹرین پر ہونے والے حملے کی برسی منائی جا رہی ہے۔ اس سانحہ کے بعد ریاست میں شدید فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں کئی سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال سخت گیر ہندو قدرے چھوٹے پیمانے پر یہ برسی منا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد یا وی ایچ پی نے اس مقام پر جہاں دو سال قبل مبینہ طور پر مسلمانوں کے ہجوم نے ایک ٹرین کو آگ لگا کر اٹھاون ہندوؤں کو زندہ جلا دیا تھا ایک مختصر سی دعائیہ تقریب منعقد کی۔ اس واقعہ کے بعد ریاست میں انتقامی کارروائی کے طور پر فسادات شروع ہوگئے تھے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ فسادات کے الزام میں اب تک اسّی سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم اب بھی چالیس کے لگ بھگ ملزمان مفرور ہیں۔ گودھرا میں مقیم بعض مسلمان الزام لگاتے ہیں کہ انتظامیہ اجتماعی طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ مسلمان آبادی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرین کو آگ لگانے کے الزام میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اصل مجرم نہیں بلکہ علاقہ کے معززین ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||