| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات حکومت کی مذمت
بھارت کی سپریم کورٹ نے ریاست گجرات کی حکومت کی پچھلے سال ہونے والے مذہبی فسادات کے دوران کارکردگی کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے یہ بات فسادات میں ہونے والے اس واقعہ کے بارے میں کی جس کو اب ’بیسٹ بیکری کیس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں بیسٹ بیکری نامی ایک دکان کو جلادیا گیا تھا جس میں پھنسے ہوئے بارہ مسلمان ہلاک ہوگئے تھے۔ لیکن گجرات کی ایک عدالت نے اس مقدمے میں بارہ ہندو ملزموں کو بری کر دیا تھا۔ مسلمان گواہوں کا کہنا تھا کہ ان کو دھمکیاں دے کر ان سے غلط گواہی دلوائی گئی۔ اس سلسلے میں بھارت کے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست کی سماعت ایک تین رکنی بینچ نے کی جس کی صدارت چیف جسٹس وی این کھرے نے کی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا فرض تھا کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی اور مجرموں کو سزا دلواتی لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ ’اگر آپ مجرموں کو سزا نہیں دلوا سکتے تو بہتر یہ ہوگا کہ آپ برطرف ہو جائیں۔‘ عدالت نے کہا کہ گجرات حکومت نے مقامی عدالت کے فیصلے کے خلاف جو اپیل درج کی وہ بھی صرف دکھاوے کے طور پرر کی ہے۔ عدالت نے ریاست گجرات کے سرکاری وکیل سے کہا کہ ریاستی حکومت اس اپیل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے کیونکہ اب تک اس کیس کا از سر نو تفتیش جائمہ ابھی تک نہیں شروع کیا گیا ہے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے مزید کہا کہ ’اگر آپ لوگوں نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا تو پھر ہماری مداخلت ضروری ہوگی۔ ہم محض تماشائی بنے نہیں بیٹھے رہیں گے۔‘ سپرم کورٹ کے اس تین رکنی بینچ نے گجرات کے چیف سیکریٹری کو اگلے ہفتے جمعہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ ریاست گجرات کے وکیل مُکل روہتگی کا کہنا تھا کہ بھارت میں پچھلے چالیس برس میں کئی فسادات ہوئے ہیں اور کچھ فسادات کے ملزموں کو کبھی سزا نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں انہوں نے انیس سو چوراسی میں سکھ مخالف فسادات کی مثال دی اور کہا کہ ان میں ملوث بیشتر افراد آزاد پھر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے مزید مہلت مانگی تاکہ ریاستی حکومت بیسٹ بیکری کیس کے فیصلے کے خلاف اپنی اپیل میں کچھ ترامیم کر سکے۔ عدالت نے اس درخواست کو رد کر دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |