| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات فسادات کے مقدمات معطل
بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس گجرات میں ہونے والے مذہبی فسادات کے سلسلے میں نو عدالتی مقدمات کی کارروائی معطل کردی ہے۔ عدالت بھارت نے یہ حکم انسانی حقوق کے کمیشن کی اس درخواست پر دیا ہے جس میں ان مقدمات کو ریاست سے باہر کی عدالتوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ گزشتہ برس فروری میں شروع ہونے والے ان فسادات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ کچھ اندازوں کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد دو ہزار بتائی جاتی ہے۔ بھارت کے انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران ’عینی شاہدین کو دھمکیاں دینے اور ناکافی تفتیش‘ کی مثالیں موجود ہیں۔ جمعہ کے روز عدالت نے چند زیادہ حساس مقدمات کی کارروائی کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ ان مقدمات میں مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی بدترین کارروائیاں زیرِ موضوع ہیں اور معطل کئے گئے مقدمات میں مشہور ’بیسٹ بیکری` کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ گجرات کی ریاستی حکومت ان مقدمات کی کارروائی کے سلسلے میں کڑی تنقید کا شکار ہے۔ اکتوبر میں سپریم کورٹ نے ریاست کو حکم دیا تھا ان مقدمات کے لئے نئے سرکاری وکیل مقرر کئے جائیں۔ یہ حکم بیسٹ بیکری مقدمے کی نامناسب عدالتی کارروائی کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں گزشتہ برس بارہ مسلمانوں کو جلا کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ گزشتہ جون میں اکیس ہندوؤں کو مسلمانوں کے قتل کے الزام سے اس بنیاد پر بری کردیا گیا کہ گواہان نے ان کے خلاف بیان دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس اقدام سے کئی تنازعات پیدا ہوگئے کیونکہ واقعے کے گواہان کو عدالتی بیان سے باز رکھنے کے لئے دھمکیاں دی گئی تھیں۔ بی جے بی کی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے گجرات کے فسادات روکنے کے لئے جو اقدامات کئے تھے وہ ناکافی تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||