| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات میں انصاف ہوکررہےگا: واجپئی
بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ گزشتہ برس گجرات کے فسادات کے قصور وار افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائےگا۔ گودھرا میں ایک ٹرین جلائے جانے کے بعد، جس میں اٹھاون ہندو کار سیوک ہلاک ہوگئے تھے، ہندو مسلم فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان ہلاک ہو گئے تھے۔ فائنانشیل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں واجپئی نے ان فسادات کو ایک سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہ ’یہ صرف ظاہر نہیں کیا جائے گا کہ انصاف ہو رہا ہے، بلکہ انصاف یقیناً ہوگا۔‘
مسٹر واجپئی نے اخبار کو بتایا ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس تشدد کے لئے ذمہ دار افراد کو سزا ملنی چاہئیے۔ ہمارے عوام، ذرائع ابلاغ اور عدلیہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘ واجپئی اور ان کی حکومت پر گجرات میں مسلم کش فسادات روکنے میں ناکامی کا الزام عائد ہوتا رہا ہے۔ حزب اختلاف نے واجپئی اور ایل کے اڈوانی پر گجرات کے وزیراعلیٰ نریند مودی کی پشت پناہی کرنے پر بھی تنقید کی۔ واجپئی کا کہنا تھا کہ ’گجرات میں رونما ہونے والا تشدد ایک سانحہ تھا اور ہم نے اس کی مذمت کی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح کے واقعات مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور بھارت کا سیکیولر کردار برقرار ہے۔‘ فائنانشل ٹائمز کے مطابق واجپئی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آئیندہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں فرقہ پرستی کا حربہ استعمال نہیں کریں گے۔ بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت گجرات میں مسلم کش فسادات میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بھارت کی عدالتِ عالیہ نے بھی ستمبر میں گجرات حکومت کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکومت متاثرین کو انصاف نہیں دلا سکی ہے۔ گزشتہ ماہ اس نے ریاستی حکومت کو نئے وکلاء تقرر کرنے کا حکم بھی دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||