گجرات بی جے پی کے لیے صدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو عام انتخابات میں جو شکست ملی ہے وہ پارٹی کے لیے قطعی طور پر غیر متوقع تھی۔ لیکن گجرات جو آر ایس ایس اور بی جے پی کا گڑھ مانا جاتا ہے وہاں پر شکست تو پارٹی کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھی۔ خود گجرات کے وزیر اعلیُ نریندر مودی نے جو بی جے پی کے سرکردہ لیڈر ہیں، گجرات میں انتخابی مہم چلائی تھی تاہم ان ہی کی ریاست میں کانگریس نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ ریاست گجرات میں لوک سبھا کی کُل 26 نشستیں ہیں۔ جن میں سے کانگریس نے 12 سیٹوں پر فتح حاصل کی ہے۔ جبکہ بی جے پی کو جسے گزشتہ انتخابات میں 21 سیٹیں ملی تھیں اس بار اسے صرف 14 ملی ہیں۔ بی
گجرات میں بی جے پی نے جو فرقہ وارانہ منافرت کاماحول پیدا کیا ہے اس سے عوام اب تھک چکی ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس بار انتخابات میں بی جے پی نے ہندتوا کا موضوع اٹھایا تو سہی لیکن وہ زیادہ ترقیاتی پروگرام پر زور دیتی رہی ہے جس سے عوام تذبذب کا شکار ہو گی کہ آخر اہم موضوع کیا ہے؟ اس کے علاوہ بی جے پی" درخشاں ہندوستان" کا نعرہ پورے ملک کی طرح گجرات میں بھی بری طرح ناکام ہو گیا۔ ریاست گجرات میں مستقل فسادات کی سبب حالات پہلے سے ابتر ہو چکے ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت نے زندگی کے سبھی شعبوں کو متاثر کیا ہے لیکن سب سے زیادہ اثر معاشی حالات پر پڑا ہے ایسی صورت میں مسٹر مودی اور بی جے پی کا یہ نعرہ کہ این ڈی اے نے ملک کو اقتصادی ترقی کے بلند مقام پر پہنچایا ہے گجرات کے عوام کو پسند نہیں آیا۔ تاہم بی جے پی کی ہار کا سبب یہ بتایا جا رھا ہے کہ اس نے آر ایس ایس کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش نہیں کی تھی۔ وشوھندوپریشد اور آر ایس ایس کے کارکنان نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔ ظاہر ہے کہ گجرات میں بی جے پی کی اصل طاقت آر ایس ایس کے ’کاڈر‘ یا کارکن ہیں ، ایسی صورت میں انکی غیر موجودگی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نریندر مودی اور سابق وزیراعلیٰ کیشو بھائی پٹیل کے درمیان دو گروپوں میں تقسیم ہے اور اندرونی خلفشار کے سبب بھی پارٹی کو نقصان پہنچاہے۔ اس بار کے انتخابات میں ایک اہم بات یہ دیکھی گی ہے کہ سینٹرل گجرات جہاں بی جے پی کا اثرو رسوخ زیادہ ہے کانگریس کو حمایت ملی ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ عوام میں یہ تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے ان کے مطابق یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بی جے پی کا روایتی حمایتی اب کانگریس کی طرف جھکنے لگے ہیں ۔ یہ رجحان بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں کیا ہو گا ابھی کچھ کہنا درست نہیں ہے لیکن فی الوقت گجرات کےوزیراعلیُ نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے نتائج شاید مودی کے لئے یہ پیغام لیکر آئے ہیں کہ دو سال قبل انہوں نے جو فرقہ وارانہ منافرت کی لہر پیدا کر کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اب وہ لہر مردہ ہوتی جارہی ہے اور اب مودی میں اتنا دم نہیں رہا کہ گجرات سے وہ واجپئی جیسی شخصیت کو بھی ووٹ دلا سکے ۔ ان نتائج کے آتے ہی ہر طرف سے یہ آوازیں آ ر ہی ہے کہ مودی کو فوراً استعفی دےدینا چاہیے۔۔۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||