بیسٹ بیکری کیس: گرفتاریوں کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر ممبئی میں عدالت نے گجرات فسادات کے ’بیسٹ بیکری‘ کیس میں گیارہ ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پیر انیس جولائی کو ان گیارہ ملزموں کے نا قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے اور ممبئی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پولیس کی ایک ٹیم کو اس سلسلے میں گجرات بھیجے۔ پانچ جولائی کو عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگر ان ملزموں نے تیس دن کے اندر اپنے آپ کو قانون کے حوالے نہ کیا تو ان کی جائداد ضبط کر لی جائے گی۔ ’بیسٹ بیکری کیس‘ کہلانے والا یہ واقعہ سنہ دو ہزار دو میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے دوران ہوا۔ برودہ میں چودہ مسلمانوں کو اس بیکری میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس سے متعلق مقدمہ پہلے گجرات میں ہوا تھا لیکن اہم گواہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں سارے ملزمان بری ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اس مقدمے کی اہم گواہ ظاہرہ شیح نے ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے سپریم کورٹ میں مقدمہ دوبارہ سننے کی درخواست دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ گجرات میں اس لیے نہ کیا جائے کہ وہاں ملزموں نے گواہوں کو ڈرایا دھمکایا تھا اور ان کی جان خطرے میں تھی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ یہ مقدمہ ممبئی میں سنا جائے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ استغاثہ کا مقدمہ کون تیار کرے گا: گجرات کی ریاست یا مہاراشٹر کی۔ اسی لیے دو نوں ریاستوں نے استغاثے کی اپنی اپنی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ اس کیس کی اگلی سماعت نو اگست کو ہوگی۔ توقع ہے کہ اس دوران سپریم کورٹ ممبئی کی عدالت کو استغاثے کے سلسلے میں وضاحت کر دے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||