BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2003, 13:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات فسادات: مقدمہ از سرنو
بیسٹ بیکری
بڑودہ کی بیسٹ بیکری میں بارہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا

بھارت کی مغربی ریاست گجرات کی حکومت سپریم کورٹ کی شدید تنقید کے بعد ان اکیس ہندوؤں کے خلاف پھر سے قتل کا مقدمہ چلانے پر راضی ہوگئی ہے جنہیں ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہونے والے قتل کے ایک مقدمہ میں رہا کر دیا گیا تھا۔

پچھلے سال بڑودہ میں ایک بیکری کے اندر بارہ مسلمانوں کو انتقامی کارروائی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حملہ آور گودھرا میں ایک ٹرین پر حملے میں انسٹھ ہندوؤں کی ہلاکت کا انتقام لینا چاہتے تھے۔

ان اکیس ہندوؤں کے خلاف قائم مقدمہ اس وقت کمزور پڑ گیا جب استغثی کے کئی گواہوں نے اپنی شہادتیں واپس لے لیں۔

گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے گجرات انتظامہ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ قانون کی بالادستی قائم نہیں رکھ سکتی تو اسے مستعفی ہوجانا چاہئے۔

جمعہ کے روز گجرات حکومت کے ایک اعلی افسر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت مذکورہ مقدمہ کو پھر سے چلائے گی۔

اگرچہ بی جے پی کی ریاستی حکومت نے بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے تاہم سپریم کورٹ نے اسے آنکھ میں دھول جھونکے کے مترادف قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بھارتی ہیومین رائٹس کمیش کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے بعد دیا جس میں بری ہونے والے ملزمان کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ اس مقدمہ میں گجرات پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور اعلی حکام کے کردار کی بھی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

اس مقدمہ کے گواہوں کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ غالباً انہیں شہادت سے منحرف ہونے کے لئے خریدا گیا تھا۔

پولیس کے سربراہ کے چکراورتی کا کہنا ہے کہ انہیں گواہوں کے خریدے جانے کا ملزمان کے بری ہونے کے بعد علم ہوا تھا۔

ملزمان کی بریت کے بعد ایک گواہ انیس سالہ ظاہرہ شیخ نے کہا تھا کہ اس نے عدالت میں غلط بیانی سے کام لیا تھا کیونکہ اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنماؤں نے دھمکایا تھا۔

گزشتہ سال فروری میں گودھرا شہر میں ہندو زائرین کو لے جانے والی ایک ٹرین پر حملہ کرکے بوگیوں کو آگ لگا دی گئی تھی جس میں انسٹھ ہندو جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد ریاست میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں کم سے کم ایک ہزار افراد مارے گئے۔ ان فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت مسلمان تھی۔

اس کے بعد یکم مارچ کو بڑودہ شہر میں ایک بیکری کو آگ لگا دی گئی جس میں بارہ مسلمان زندہ جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد