فسادات: رپورٹ سپریم کورٹ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے دو برس قبل گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور مبینہ اجتماعی زیادتی سے متعلق جمعرات کو ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے۔ گجرات میں ہونے والے قتل عام کے بعد زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کے دوران لوگوں کے ایک گروہ نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کے اٹھارہ میں سے چودہ رشتہ داروں کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کا شکار ہونے والی خاتون نے اپنے ہی گاؤں کے بعض افراد کے نام بھی بتائے جو اس خاتون کے بقول ان کے خاندان پر حملہ کرنے والے گروہ میں شامل تھے۔
سپریم کورٹ نے جنوری دو ہزار چار کو سی بی آئی کو اس معاملے کی چھان بین کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ گجرات پولیس نے اس معاملے کی تفتیش میں ناکامی کے بعد یہ کیس بند کر دیا تھا۔ البتہ سی بی آئی نے اپنی چھان بین کے دوران زمین سے چار افراد کے ڈھانچے برآمد کر کے انہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھی دیا تھا۔ ان ڈھانچوں میں ایک بچے کا ڈھانچہ بھی شامل تھا۔ اس کیس کے حوالے سے سی بی آئی اب تک تیرہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ پولیس اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے اس کیس سے متعلق شواہد میں مبینہ طور پر رد و بدل کیا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز بعد یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ گجرات میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس واقعہ سے وابستہ دس مقدمات سپریم کورٹ میں پیش کئے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||