گجرات فسادات کی سماعت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست گجرات میں 2002 میں ہونے والے فساد کے دوران اجتماعی زیادتی اور قتل کے کیس کی سماعت اب بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں ہوگی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے یہ حکم بلقیس بانو کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے جاری کیا۔ بلقیس بانو نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مقدمہ کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو کیس کی تفتیش کی ہدایت دی جس کے بعد سی بی آئی نے اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی اور بیس لوگوں کے خلاف فوجداری الزامات کی تفتیش شروع کی۔ ملزمان میں چھ پولیس افسر اور دو ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملزمان نے فسادات میں چودہ مسلمانوں کا اور تین عورتوں کی اجتماعی آبرو ریزی کی تھی۔ بلقیس بانو کا دعویٰ ہے کہ وہ آبرو ریزی کی اس واقعہ کی چشم دید گواہ ہیں۔ وہ اس وقت حاملہ تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ حملہ وروں نے انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملہ وروں کے نام گجرات پولیس کو دیے تھےمگر اس نے اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی اور کیس کی تفتیش بھی بند کر دی تھی۔ پہلے بھی 2002 میں ہونے والے ہندو مسلمان فسادات کی تفتیش صحیح طریقے سے نہ کرنے کی وجہ سےگجرات حکومت پر نکتہ چینی کی گئی تھی۔ فروری 2002 کے گجرات فسادات کا آغاز ٹرین کے ایک ڈبے میں لگائی جانے والی آگ کے نتیجے میں ہوا تھا جس کی وجہ سے ڈبہے میں سوار 59 ہندو مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے گجرات فسادات کے ’بیسٹ بیکری‘ کیس کی سماعت بھی مہاراشٹر میں ہوئی تھی کیونکہ گجرات میں اہم شاہدوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں تمام ملزمان بری ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||