گودھرا: نہ گھر، نہ انصاف، نہ تحفظ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گودھرا کے فسادات کو دو سال ہو چکے ہیں لیکن اب بھی ایک خوف، ایک مایوسی اور عدم تحفظ کا ایک گہرا احساس ہے جو بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں رہنے والے مسلمانوں کے بڑے حصے کو گھیرے رہتا ہے۔ گودھرا کے فسادات کو دو سال ہو چکے لیکن اب تک نہ تو انصاف مانگنے والوں کو انصاف ملاہے اور نہ ہی سماجی اور معاشی نقصان کا ازالہ ہو سکا ہے۔ کسی نے بتایا نہیں لیکن مسلمانوں کو علم ہو چکا ہے کہ اگر انہیں اپنی زندگی کو قدرے سہل بنانا ہے تو انہیں سماجی ، معاشی اور نفسیاتی مفاہمتیں کرنی پڑیں گی۔ بابو بھائی اس صورتحال کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ گومتی پور کے رہنے والے بابو بھائی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی داڑھی صرف اس لیے صاف کرا دی کہ اسے دیکھ کر اکثر مسافر ان کے آٹو رکشے میں نہیں بیٹھتے تھے۔ اور یہ صرف ایک بابو بھائی ہی نہیں جن کا یہ مسئلہ ہے، اس نچلے طبقے کے ہر شہری کو اس نوع کی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسحاق گاندھی جیسے تعلیم یافتہ نوجوان بھی، اسحاق نے گریجویشن کیا اور وہ بھی انگلش میڈیم سے ، اور اس میڈیم کو اب بھی ملازمت کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اسحاق کو اسکے ساتھ ہی کمپیوٹر کی تعلیم ہونے کے باوجود ملازمت نہیں ملی، کیوں؟ اس لیے کہ وہ مسلمان ہے۔ اسحاق کہتا ہے ’میں بھارت سے چلا جاؤں گا۔ میں نے ائرلائن میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے پتہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد کے ان حالات میں یہ ملازمت اب مجھے نہیں ملے گی۔ کاروبار کروں تو کہاں جاؤں، یہاں گجرات میں تو سرمایہ لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہاں تو تحفظ کی کوئی ضمانت ہی نہیں۔ اسحاق جھومپڑپٹی ازم کے جاری عمل کا معتوب ہے، اس کا خاندان جودھاپور میں رہتا ہے اور بد قسمتی سے اس علاقے کو احمد آباد کا ’منی پاکستان‘ کہا جاتا ہے کیونکہ جودھا پور کی تمام آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اسحاق نے بتایا’جودھا پور کارہایشی ہونے کا مطلب آپ سمجھتے ہیں؟ نوکری ملنے کی امید بھی ختم۔‘ گودھرا اور اس کے بعد کے فسادات میں اپنے کاروبار اور ادارے لٹوانے اور تباہ کرانے کے بعد مسلمانوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ اب اگر انہیں کاروبار کرنا ہے تو ہندووں کی شراکت میں کرنا ہو گا۔
عمر بھائی دعویٰ کرتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے خود کو، اپنے کاروبار اور جائیدادوں کی حفاظت کے لیے اس طریقے پر عمل شروع بھی کر دیا ہے۔ عمر بھائی احمد آباد میں ہوٹل چلاتے ہیں۔ احمد آباد کی شہرت مذہبی طور پر حساس شہر کی ہو گئی ہے اور باہر سے آنے والے اب وہاں سے جلد از جلد لوٹ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ احمد آباد کے ان نواحی دیہی علاقوں میں صورِ حال اور بھی ناقابلِ بیان ہے فسادات کے دوران جان بچانے کے لیے جو لوگ دیہی علاقوں سے نکل آئے تھے ان کی واپسی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔ آنند کے ایک گاؤں اودھ کی باسی ریحانہ بتاتی ہے ’میں نے اپنی برداری کے تین لوگوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا اور پولیس کو اس کا بیان بھی دیا اور اب میں اپنے آبائی گاؤں میں داخل نہیں ہو سکتی۔‘ اس گاوں میں ستائیس لوگ مارے گئے اور ساٹھ لوگ جو اس وقت گاؤں سے نکلے تھے اب تک گاوں سے باہر رہتے ہیں۔ ایسی ہی کہانی گھوداسر کی بھی ہے جہاں چودہ لوگ مارے گئے تھے۔ اس گاؤں کے بارہ ہندووں کو عمر قید کی سزا ہوئی لیکن اب بھی مسلمان گاؤں کے اندر اپنے گھروں میں نہیں باہر کھتوں میں رہتے ہیں۔
اور انصاف کی صورتِ حال ایسی ہے کہ سپریم کورٹ نے گجراٹ حکومت سے یہ پوچھا ہے کہ عدم تحفظ کی صورِ حال کے پیش نظر فسادات کے مقدمات کی سماعت کہیں اور گجرات سے باہر کیوں منتقل نہ کر دی جائے؟ ان مقدمات کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس نے ان کی تحقیقات ہی ٹھیک طرح نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||