بارش سے کم از کم 30 ارب کا نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تجارتی سرگرمیوں کے سبب ممبئی کو بھارت کا صنعتی دارالحکومت کہا جاتا ہے لیکن شدید بارشوں سے ممبئی کی اقتصادی زندگي جس طرح متاثر ہوئی ہے اس سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بارش سے ہونےوالا نقصان تیس ارب روپے سے بھی زیادہ ہےاور ابھی بھی معمول کی زندگی شروع کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ہندوستان کی چار بڑی بیمہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بارش سے نقصان کے بعد ان کے پاس اب تک تقریبا دس ارب روپے کا دعوٰی کیا جا چکا ہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ مہاراشٹر ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے ممکن ہے کہ مجموعی شرح ترقی میں ایک فیصد کی کمی آ جائے۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ امدادی کاموں میں مصروف بہت سے لوگ اب بھی لاشوں کو نکالنے میں لگے ہیں۔ ایک ہفتے سے جاری بارش سے تقریبا دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے ابھی مزید بارش ہونے کا خدشہ ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے اس برس شرح ترقی کا تخمینہ سات فیصد لگایا تھا لیکن ممبئی کے ایک ماہر اقتصادیات چیتن اہیا کا کہنا ہے کہ’ بارش سے صنعت اور زرعی شعبے دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس لیے سات فیصد شرح ترقی شاید ممکن نہ ہو‘۔ ان کے مطابق ریاست مہاراشٹر کا شرح ترقی میں اہم کردار ہے اور اسکے متاثر ہونے کا اثر پوری اقتصادیات پر پڑے گا۔ کئی بڑی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر ممبئی میں ہیں اور بارشوں کے سبب ان کے کام کاج پر برا اثر پڑا ہے۔ پانی کے سبب انٹرنیٹ کے کئی بڑے سرورز کے کام کاج میں بھی خلل پڑا ہے جس کے سبب انٹرنیٹ، بینکنگ اور اے ٹی ایم سروسز متاثر ہوئی ہیں۔ شہری ہوا بازی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور بعض پرائیویٹ دفاتر میں کام پوری طرح رک گیا ہے۔
ملک کی کئی بڑی دواساز کمپنیاں ممبئی میں ہیں اور خبروں کے مطابق اگر پانی اسی طرح بھرا رہا تو دواؤں کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ممبئی میں صنعتی شعبہ جہاں کافی متاثر ہوا ہے وہیں پوری ریاست میں فصل کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ موجودہ فصل تباہ ہوگئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے سبب آئندہ کی فصل بھی وقت پر نہیں بوئی جا سکتی۔ انڈین مرچنٹز چیمبر کے تخمینے کے مطابق کل ملا کر تقریبا تیس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ بہت کم ہے۔ ممبئی کے چیمبر آف کامرس آف انڈسٹری کے چیئرمین ابھیک بروا کا کہنا ہے کہ’ انڈین مرچنٹ کا اندازہ نقصان سے بہت کم ہے۔ اسے بہت احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نقصان چالیس ارب سے کہیں زیادہ کا ہوا ہے‘۔ جگہ جگہ پانی بھرنے کے سبب ممبئی میں بیماریاں پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔ اس سے بچنے کےلیے کیڑے مار دوائیں چھڑکی جار ہی ہیں۔ دو سو ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں بھیجی گئی ہے جبکہ تقریباً تیس ہزار رضاکار بھی انہیں کاموں میں انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||