بھارت: بچیوں کی تعلیم مفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے بچیوں کے خلاف تفریق ختم کرنے کے لیے ایسی لڑکیوں کو مفت تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہیں۔ اگرکسی کی صرف دو بیٹیاں ہیں تو دونوں بہنوں کی آدھی فیس معاف ہوگی۔ یہ سہولت پانچویں سے بارہویں درجے تک دی جائے گی۔ حکومت نے اعلی تعلیم حاصل کرنے والی اکلوتی لڑکیوں کو بھی دوہزار روپیے ماہانہ اسکالر شپ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اسکالر شپ ان اکلوتی لڑکیوں کو دی جائے گی جو پوسٹ گریجویٹ کورسوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ایسے تمام اسکول جو سی بی ایس سی ای یعنی سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سے الحاق چاہتے ہوں یا اس سے ملحق ہیں انہیں تمام اکلوتی لڑکیوں کی پوری فیس معاف کرنی ہوگی۔ لیکن اگر دو بہنیں ہیں تو دونوں کی آدھی آدھی فیس معاف ہوگی۔ اس میں آنے جانے کے اخراجات کو چھوڑ کر ہر طرح کی فیس شامل ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن یا یو جی سی بھی تمام ملحقہ اداروں سے بات کرےگا تاکہ جوا کلوتی لڑکیاں پوسٹ گریجویٹ کورسوں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں انہیں خصوصی مراعات دی جاسکیں۔ حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مستحق امیدواروں کےانتخاب کا عمل شفاف رکھا جائے گا اور بلا امتیاز اس پرعمل ہوگا۔ وزارت تعلیم کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں کہا گيا ہے کہ ’تعلیم نسواں کو فروغ دینا حکومت کی اہم پالیسی ہے لیکن بد قسمتی سے لڑکیوں کے ساتھ اب بھی امتیاز برتا جاتا ہے۔ لڑ کوں کو ترجیحات حاصل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ کئی طرح کی ناانصافیاں ہوتی ہیں۔ ان کی ترقی اور وقار کے لیےنئے اقدامات ضروری ہیں‘۔ بیان میں محترمہ اندرا گاندھی کو یاد کرتے ہوئے کہا گيا ہے کہ وہ بھی اکلوتی لڑکی تھیں۔ انکی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے حکومت نے ایسی تمام اکلوتی لڑکیوں کو جو یونیورسٹیوں یا کالجوں میں زیر تعلیم ہیں ’اندرا گاندھی اسکالر‘ کا خطاب دینے کو کہا ہے۔ حکومت نےتمام سرکاری اداروں سے ان کی ممکنہ مدد کرنے کو کہا ہے تاکہ وہ اچھی اعلی تعلیم حاصل کر سکیں ۔ تعلیم نسواں کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے کئی اور اسکالر شپوں کا اعلان کیا ہے جو تعلیمی لیاقت و صلاحیت کی بنیادوں پر تقسیم کی جائےگی۔ اس زمرے میں بھی لڑکیوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||