خوف میں گھِرے ایودھیا کے مسلمان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بابری مسجد و رام مندر جنم بھومی کے تنازع کے سبب ایودھیا شہر برسوں سے خبروں میں رہا ہے۔ گزشتہ پانچ جولائی کو بعض شدت پسندوں نے منہدم بابری مسجد کے متنازع مقام پر حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان شدت پسندوں کا مقصد اس مقام پر واقع عارضی رام مندر کو تباہ کرنا تھا۔ تقریبا دو گھنٹے تک گولیاں چلیں راکٹ داغے گئے۔ اس حملے میں سبھی شدت پسند مارے گئے اور متنازعہ مندر کو معمولی سا بھی نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن اس واقعہ سے ایودھیا کے مسلمانوں پر ایک بار پھر خوف کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
ایودھیا کے مسلمانوں کے لیے گزشتہ تقریباً پندرہ برس کا دور بہت دشوار رہا ہے۔ چھ دسمبر 1992 میں جب ہندو شدت پسندوں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد منہدم کی تھی اس وقت فسادات میں 18 مسلمان مارے گئے تھے اور تقریباً پوری مسلم آبادی کو وہاں سے منتقل ہونا پڑا تھا کیوں کہ فسادیوں نے گھر اور گھر بار نذر آتش کر دیے تھے۔ منہدم بابری مسجد سے چند قدم کی دوری پر واقع ایک قدیم خانقاہ کے منتظم سید اخلاق احمد لطیفی اس وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بابری مسجد منہدم کی گئی تھی اس وقت سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے یہاں کے مسلمانوں کے خلاف فساد بھڑکا کر انہیں ہمیشہ کے لیے ایودھیا چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا تھا۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
’ آج 13 برس بعد متنازعہ ارآضی پر دہشت گردوں نے جب حملہ کیا تو وشو ہندو پریشد ایک بار پھر سازش کے تحت ایودھیا کے مسلمانوں کی طرف انگلی اٹھا رہی ہے کہ یہاں کے مسلمان دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں‘۔ ایودھیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے۔ یہ معاشی اعتبار سے بھی کمزور ہیں۔ سلائی، جوتے بنانا یا پھر چھوٹی موٹی نوکریاں ہی انکا ذریعہ معاش ہیں۔ کچھ لوگوں نے قرض لے کر گاڑیاں خریدی ہیں جنہیں وہ ٹیکسی کے طور پر چلاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک سید ریحان بھی تھے۔ ان کی گاڑی شدت پسندوں نے بطور ٹیکسی کرائے پر لی تھی اور پھر اس کار کو بم سے اڑا دیا۔ پولیس نے تقریباً 20 دنوں تک پوچھ گچھ کے بعد ریحان کو بے قصور پایا۔ ریحان کی زندگی اب بالکل بدل گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرا ہر طرف سے نقصان ہوا ہے، میری قرض کی گاڑیاں تباہ ہو گئی، گرفتاری سے رسوائی ہوئی اور اب ہندو آ بادی مجھے بھی دہشت گردوں کا ہمدرد سمجھتی ہے‘۔ ایودھیا میں مسلم ویلفئر سوسائٹی کے صدر صادق علی عرف بابو خان کا کہنا ہے کہ ’شہر کے عام ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی میل جول اور محبت رہی ہے، مگر وشو ہندو پریشد جیسی سخت گیر تنظیموں کو ایودھیا میں مسلمانوں کے وجود پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے‘۔ بابو خان کے مطابق ’جولائی کے واقعہ کے بعد وی ایچ پی اور آر ایس ایس یہاں کے عام ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت گھولنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں‘۔ وشو ہندو پریشد نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ متنازعہ ارآضی کے اطراف مسلمانوں کے علاقوں کو تحویل میں لیا جائے نہیں تو مجوزہ رام مندر کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا۔ یہاں کے مندروں میں رہنے والے بہت سے سادھو سنت ہندو پریشد کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ مشہور ہنومان گڑھی مندر کے
مسلمانوں کو اس بات کا اطمینان ہے کہ پانچ جولائی کو شدت پسند اپنے حملے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سکیورٹی فورسز نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر سکیورٹی فورسز نے ایسی ہی کوشش 1992 میں بھی کی ہوتی تو 500 برس پرانی تاریخی بابری مسجد آج اپنی جگہ موجود ہوتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||