’ایودھیا پرحملہ لشکرِ طیبہ نے کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ منہدم بابری مسجد کے احاطے میں متنازعہ رام جنم بھومی پر حملے میں لشکر طیبہ کا ہاتھ تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں جموں کے سرحدی ضلع پونچھ میں کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے بعد پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مندر پر حملے میں مارے گئے شدت پسند پاکستانی تھے۔ جموں میں ایک سینئر پولیس افسرایس پی وید نے بتا یا ہے کہ گرفتار شدہ افراد سے حاصل کئی گئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ایودھیا پر حملے کی سازش انتہا پسندوں نے کشمیر میں تیار کی تھی۔ مسٹر وید کے مطابق اس بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے پانچ کشمیری انتہا پسندوں کوگرفتار کیا ہے اور ایک جیپ بھی ضبط کی ہے جسے ہتھیار منتقل کرنے کے لیےاستعمال کیا گيا تھا۔ پونچھ کے ایک سینئر پولیس افسر یوگل منہاس کا کہنا تھا کہ’پونچھ سے تعلق رکھنے والےآٹھ انتہا پسندوں نےایودھیا میں حملہ کرنے والے لشکر طیبہ کے پانچ فدائین کی مدد کی تھی۔ ان میں سے پانچ کو گرفتار کیا گیا ہے اور باقی تین ابھی لاپتہ ہیں‘۔ گرفتار کیےگئے افراد کی شناخت فاروق احمد، محمد نسیم، عبدالعزیز، شکیل احمد اور مشتاق احمد کے نام سے کی گئی ہے۔ جبکہ محمد اکبر، ابو عثمان اور ابو سلام کو مفرور قرار دیا گيا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ رام جنم بھومی پر خود کش حملہ کرنے والے سندھی اور بلوچی زبان بولتے تھے۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر یہ حملہ پانچ جولائی کو کیا گیا تھا۔ پولیس نے سبھی حملہ آوروں کو مندر تک پہنچنے سے قبل ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ دوسرے روز لاشوں کی شناخت کیے بغیر انہیں دفنا دیا گيا تھا جس کے بعد میڈیا میں شکوک و شبہات بھی ظاہر کیے گئے تھے۔ سنہ انیس سوبانوے میں ایودھیاکی تاریخی بابری مسجد کوسخت گیر ہندو کارسیوکوں نے منہدم کر کے اسکی جگہ ایک مندر کھڑا کردیا تھا۔ ابھی یہ معاملہ عدالت میں زیرغور ہے اور اس متنازعہ مقام کی سخت پہرے داری کی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||