ایودھیا حملے کی تفتیش شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اسے اس طرح کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بعض تنظیموں نے مذہبی مقامات پر حملے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری ونود دوگل نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ان خفیہ معلومات کے بارے میں ریاستی حکومتوں کو بھی بتا دیا گیا تھا۔ مسٹر دوگل نے کہا کہ اگر چہ ابھی تک کسی تنظيم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن جلد ہی حملہ آوروں کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ حملہ آور ایودھیا کے نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متنازعہ رام مندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور پورا احاطہ اب محفوظ ہے۔ مسٹر دوگل نے یہ بتایا کہ تمام چھ حملہ آور مارے گئے ہیں اور اس تصادم میں سکیورٹی کے دو جوان زخمی ہوئے ہیں۔ داخلہ سکریٹری نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ شدت پسندوں نے ہتھیار اور دھماکہ خیزمادہ کہا ں سےحاصل کیا۔ اس دوران حملہ آوروں کو ایودھیا لے جانے والے ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے انہيں لکھنؤ ریلوے سٹیشن سے پِک کیا تھا اور انہوں نے خود کو سیاح بتایا تھا۔ ڈرائیور کے مطابق ان حملہ آوروں نے حملے سے قبل ایودھیا میں ایک چھوٹے مندر میں پوجا بھی کی تھی۔ ڈرائیور سے اس وقت پوچھ گچھ کی جاری ہے۔ وزارت داخلہ نے بی جے پی کی اس نکتہ چینی کو مسترد کر دیا ہے کہ حفاظتی انتظامات میں کسی طرح کی کمی تھی۔ مسٹر دوگل کا کہنا تھا کہ نیم فوجی دستوں نے نہ صرف یہ کہ شدت پسندوں کو سکیورٹی کے باہرکی لائن پر ہی ہلاک کر دیا بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھا کہ اس تصادم میں وہاں موجود عقیدت مندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||