BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 July, 2005, 06:06 GMT 11:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازعہ رام مندر پر حملہ، چھ ہلاک

 ایودھیا
حملہ آووروں نے جیپ کو بم دھماکے سے اڑا کے ایودھیا کے متازعہ رام مندر کی دیوار میں سوراخ کیا
ایودھیا میں منہدم بابری مسجد کے مقام پر بنائے گئے عارضی رام مندر پر حملہ کرنے والے پانچوں حملہ آوروں کو نیم فوجی دستوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق پانچ حملہ آور ایک جیپ کے ذریعے متنازعہ مندر کے احاطے تک پہنچے۔ انہوں نے جیپ کو بم دھماکے سے اڑا کر دیوار میں راستہ بنایا۔ ایک شخص جیپ کے دھماکے میں بھی ہلاک ہوا ہے۔

وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک تصادم جاری رہا جس میں حملہ آور مارے گئے۔

دریں اثناء پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایودھیا میں متنازعہ رام مندر پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے۔

News image
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے دفتر خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس واقعے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری اعتماد سازی کے اقدامات متاثر نہیں ہوں گے۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی بھارت کے چند مقامات پر پاکستان کا پرچم نذر آتش کیا گیا۔ حیدرآباد میں بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور دیگر تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے سڑکوں پر آ کر پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی۔

پولیس نے بیس افراد کو ٹریفک روکنے کی کوشش پر حراست میں بھی لیا۔

تاہم حیدرآباد میں پرانے شہر میں حالات پر امن اور قابو میں تھے۔ پولیس نے شہر میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

ایودھیا میں حملے کے بارے میں بھارتی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملہ آور اصل مندر تک نہیں پہنچ سکے تھے جو منہدم بابری مسجد کے منبر پر عارضی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔

ایودھیا
حملہ آووروں کے استعمال میں آنے والی جیپ

متنازعہ مقام کے اطراف میں 67 ایکڑ اراضی نیم فوجی دستوں کے کنٹرول میں ہے اور وہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان انتظامات کے باوجود حملہ آوروں کے اندر داخل ہو جانے پر حیرت ظاہر کی جا رہی ہے۔

ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو پائی ہے اور نہ ہی کسی تنظيم نے ابھی تک اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پہلے ردعمل کے طور پر کل پورے ملک میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی نے کہا ہے کہ ’یہ بہت گمبھیر معاملہ ہے اور اس کا ردعمل بھی بہت گمبھیر ہو گا‘-

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس حملے سے رام مندر کے تعمیر کا معاملہ ایک بار پھر قومی اہمیت اختیار کر گیا ہے‘۔

ایودھیا
ایودھیا میں حملہ کرنے والے ایک شخص کی لاش

وشو ہندو پریشد کے رہنما پروین توگڑيہ نے اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ آر ایس ایس نے بھی عوام سے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے کی بات کی ہے۔ تاہم تنظیم کے ترجمان رام مادھو نے اپیل کی ہے کہ ہر حالت میں قانون کا احترام کیا جائے۔

آر ایس ایس کے صدر دفتر اور ملک کے کئی اہم مندروں کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔

ایودھیا اور ملک کے دیگر علاقوں میں صورت حال ابھی تک پوری طرح پر امن ہے۔

انیس سو بانوے میں ایودھیا میں بابری مسجد کے گرائے جانے کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایودھیا سمیت پورے اترپردیش میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس نے پر امن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

ایودھیا دنیا کے متنازعہ ترین مذہبی مقامات میں سے ایک ہے۔

News image

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد