بابری مسجد: ایڈوانی کو نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی الہ آباد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کی سازش کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کو نوٹس جاری کیے ہیں ۔ عدالت نے اس معاملے میں 18 دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ ایک خصوصی عدالت نے تقریبا دو سال قبل ان رہنماؤں کے خلاف تکنیکی بنیادوں پر مقدمہ خارج کر دیا تھا۔ تفتیشی ادارے سی بی آئی نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی اسی عزرداری کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ سی بی آئی نے ایودھیا کی بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں مسٹر اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی ، کلیان سنگھ ، ونے کٹیار ، بال ٹھاکرے ، اشوک سنگھل سمیت 49 افراد کے خلاف ایک مشترکہ فرد جرم داخل کی تھی۔ لیکن فرد جرم کے عمل میں بعض تکنیکی نقص پائے گۓ تھے جس کی بنیاد پر ذیلی عدالت نے مسٹر اڈوانی اور کئی دیگر رہنماؤں کے نام تمام الزامات سے خارج کردیے تھے۔ اس وقت مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی اور ریاست اترپردیش میں بی جے پی کی حمایت کے ساتھ مایاوتی وزیراعلی تھیں۔ مسٹر اڈوانی کے خلاف یہ مقدمہ مئی 2001 میں اس وقت واپس لیا گیا تھا جب حزب اختلاف نے ان کے خلاف تحریک چلا رکھی تھی۔ حزب اختلاف نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی نے دانستہ طور پر مسٹر اڈوانی کے خلاف کیس کمزور کیا ہے۔ بعد میں جب ریاست میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت قائم ہوئی تو کئی حلقوں سے یہ مطالبہ ہوا کہ وہ نئی فرد جرم داخل کرنے کے اقدامات کرے تاکہ وہ تکنیکی نقص دور کیا جاسکے ۔ لیکن مسٹر یادو کی جانب سے اس سلسلے میں بظاہر کوئی فوری قدم نہیں اٹھایا گیاتھا۔ بعد میں سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کی جس میں ذیلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ نوٹس بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما کے خلاف مقدمے کی ازسرنوشروعات کا باعث بن سکتا ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ایودھیا کی بابری مسجد کو 6 دسمبر میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔ مسٹر اڈوانی اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کی قیادت میں ہزاروں ہندو کارسیوک ایودھیا میں جمع ہوئے تھے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے دیا جائے کیوں کہ بقول انکے یہ مسجد ہندوؤں کے بھگوان رام چندر کی جائے پیدائش کے مقام پر بنے ہوئے ایک مندر کو توڑ کر تعمیر کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||