BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 December, 2004, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بابری مسجدکی برسی پر خاموشی

بابری مسجد
بابری مسجد کو دسمبر 1992 میں منہدم کر دیا گیا تھا
ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام کی بارہویں برسی کے موقع پر ایودھیا میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن گزشتہ برسوں کے برعکس اس سال ابھی تک صورت حال پوری طرح پر امن ہے۔

گزشتہ برس تک ایودھیا میں مرکزی سکیورٹی فورسز تعینات کی جاتی تھیں لیکن اس بار حفاظت کے لۓ محض مقامی پولیس کو مامور کیا گیا ہے۔

ہر سال کی طرح اس بار بھی سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے منہدم بابری مسجد کے مقام سے کچھ دور پر واقع کارسیوک پورم میں روایتی پوجا کا اہتمام کیا جس میں بمشکل دو سو افراد نے شرکت کی۔

اسی طرح بابری ایکشن کمیٹی کے پروگرام میں بھی محض چند لوگ شامل ہوئے۔ البتہ بعض مسلمانوں نے غم کے اظہار کے طور پر اپنی دوکانیں بند رکھیں۔

ایودھیا اور اس کے اطراف میں کسی قسم کی کشیدگی نہیں پائی جاتی اور روزمرہ کی زندگی معمول پر ہے۔

جنوبی ریاست آندھراپردیش میں بعض مسلم تنظیموں نے ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ پولیس کمشنر نے احتیاطاً حیدرآباد شہر میں کسی عوامی جلسے یا مظاہرے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔گزشتہ سال احتجاج کے دوران شہر میں چھ افراد مارے گئےتھے۔

ہندوستان کی پارلیمنٹ میں بھی ایودھیا کے سوال پر ہر سال کی طرح اس بار بھی بحث ہوئی اور ارکان نے اپنی اپنی آراء نسبتاً کسی ہنگامے کے بغیر ایوان میں ظاہر کیں۔

ہندوؤں کی بعض تنظیمیں یہ دعوی کرتی ہیں کہ منہدم بابری مسجد بھگوان رام کے جاۓ پیدائش پر واقع ایک مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی ۔ تاہم مورخین کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد ، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لۓ ایک تحریک چلائی تھی۔

تحریک کے دوران 6 دسمبر 1992 کو ہزاروں ہندوکارسیوکوں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کےا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔

ہندو تنظیمیں آج کے دن کو " یوم شجاعت " کےطور پر مناتی رہی ہیں۔

بابری مسجد کی ملکیت کا مقدمہ الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ، یہ مقدمہ اب آخری مراحل میں ہے اور اس کا فیصلہ ایک برس کے اندر ہوسکتا ہے ۔

مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلہ کا مکمل طور پر احترام کریں گی خواہ فیصلہ ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ہندو تنظیموں کو کہنا ہے کہ یہ معاملہ عقیدت کا ہے جو عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

ہندو قوم پر ست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا موقف یہ ہے کہ یا تو عدالت کے فیصلے سے منہدم بابری مسجد کے مقام پر مندر بنے یا پھر بات چیت کے ذریعے مسلمان بابری مسجد کے مقام سے دستبردار ہو جائیں یا پھر پارلیمنٹ میں قانون بنا کر متنا زعہ زمین پر مندر بنانے کا راستہ ہموار کیا جائے ۔

حکمران کانگریس اس معاملے کو عدالت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے جہاں یہ معاملہ گزشتہ 50 برس سے زیر سماعت ہے۔

بابری مسجد کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 1949 میں مسجد کے اندر مورتی نصب کرنے سے لے کر 1992 میں مسجد کے انہدام تک اس طرح کے تمام واقعات پولیس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں رونما ہوۓ۔

مسجد پر تالہ لگانے ، نماز پر پابندی ‏عائد کرنے ، مسجد میں رکھی مورتیوں کی پوجا کرنے کی اجازت دینے اور منہدم مسجد کی جگہ دوبارہ مورتیاں نصب کرنے کے تمام فیصلے جمہوریہ ہندوستان کی آزادعدلیہ اور سکیولر حکومتوں نے کئےتھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد