’بی جے پی پر الزام جھوٹا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی جے پی کے سرکردہ رہنما اور اتر پردیش کے سابق وزیرِاعلیٰ کلیان سنگھ نے لبراہن کمیشن کے سامنے ایک حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے متعلق انہوں نے جوالزامات بی جے پی کے سینئیر رہنماؤں پر عائد کیے تھے وہ صحیح نہیں ہیں۔ کلیان سنگھ کے مطابق انہوں نے بی جے پی کے رہنماؤں کے خلاف جو بھی کچھ کہا تھا وہ ایک شدید قسم کا ردعمل تھا۔ لبراہن کمیشن بابری مسجد کے انہدام کی تفتیش کر رہا ہے۔کلیان سنگھ نے کمیشن کو وزیرِاعلیٰ کی حیثیت سے بابری مسجد کے تحفظ کے لیے دیے جانے والے احکامات کی تفصیلات بھی دی ہیں۔ انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ان خبروں کو سن کر بہت غصے میں تھے کہ این ڈی اے حکومت کے وکیل نے لبراہن کمیشن کو بتایا کہ انکی حکومت مسجد کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی تھی۔ مسٹر سنگھ کےحلفیہ بیان کے مطابق’ گزشتہ برس کمیشن کے سامنے واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت کے وکیل کا بیان غلط تھا اور اس سے انہیں کافی تکلیف پہنچی تھی ۔اسی کے ردعمل اور غصے میں انہوں نے میڈیا کے سامنے اس طرح کی باتیں کہی تھیں کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ، لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی وغیرہ کے درمیان مسجد کو منہدم کرنے کی سازش تھی۔ یہ سب کچھ غصے میں کہا گیا تھا اور یہ صحیح نہیں ہے‘ ۔ چند برس قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ سینئیر رہنماؤں کے ساتھ اختلافات کے سبب کلیان سنگھ کو بی جے پی سے بر طرف کردیا گیا تھا۔ مسٹر سنگھ نے بعد میں اپنی سیاسی جماعت بھی قائم کی تھی۔ اسی دور میں انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایودھیا میں بابری مسجد کا انہدام اٹل بہاری واجپئی ، لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے بی جے پی رہنماؤں کے سازش تھی۔ مسٹر سنگھ نے بی جے پی میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی ہندو نظریاتی تنظيموں کا کہنا ہے بابری مسجد رام مندر کو توڑ کر اسکی جگہ پر بنائی گئی تھی۔ بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔ اسی تحریک کے تحت ہزاروں ہندو کارسیوک 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں جمع ہو گئے تھے اور اسی دن کار سیوکوں نے مسجد منہدم کردی تھی۔اس وقت اترپردیش میں کلیان سنگھ کے زیرقیادت بی جے پی کی حکومت تھی۔ اور مرکز میں کانگریس کا اقتدار تھا۔ مسجد کےانہدام کے بعد پورے ملک میں بدترین قسم کے فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریبا تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔مسجد کے انہدام اور اسکے بعد ہونے والی مسلم ہلاکتوں کے سلسلے میں ابھی تک کسی کو بھی سزا نہیں مل سکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||