’تنازعہ مذاکرات سے حل کیا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس (این ڈی اے) نے کہا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بابری مسجد پر تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ یہ اعلان بھارت کے سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے دہلی میں پارٹی کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کے بعد کیا۔ یہ اجلاس سابق وزیر اعظم اور این ڈی اے کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی کے گھر پر ہوا اور اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر لال کرشن اڈوانی اور این ڈی اے الائنس کے اہم رہنما شریک تھے۔ این ڈی اے کا یہ بیان ایل کے اڈوانی کے گزشتہ ماہ کے اس بیان کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بابری مسجد کے مقام پر ہندو گرجا تعمیر کرنے کے بارے میں پر عزم ہیں۔ اس بیان سے این ڈی اے کے اتحادیوں کو دھچکا لگا اور انہوں نے اس پر اڈوانی سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب بابری مسجد کے تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے بارے میں اپنے بیان سے این ڈی اے نے بی جے پی اور این ڈی اے کے دیگر اتحادیوں میں ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||