بی جے پی سخت گیر موقف پر قائم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں شکست کے باوجود اپنے سخت گیر ہندو موقف پر قائم رہے گی۔ بی جے پی کے صدر ونکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پارٹی اپنے نظریے کو بدلے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ انتخابات میں ناکامی کا ذمہ دار سہل پسندی کو ٹھہرایا۔ وہ ممبئی میں پارٹی کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں پارٹی کی حالیہ انتخابات میں شکست پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی نے غریب عوام کو بلا دیا تھا اور اس وجہ سے کانگریس انتخابات جیت گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’شاید ہم حد سے زیادہ پر اعتماد ہو گئے تھے‘۔ اس اجلاس میں دوسرے امور کے علاوہ آئندہ ریاستی انتخابات کی حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا کیونکہ ملک گیر انتخابات کے بعد ریاستی انتخابات بی جے پی کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس اجلاس میں بی جے پی اپنی ہندو قوم پرستانہ پالیسی کو مزید کٹر خطوط پر استوار کرے گی۔ اس میں سرِ فہرست ایودھیا میں بابری مسجد کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کا معاملہ ہے ، اس متنازعہ معاملے کی وجہ سے انیس سو بانوے میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا تو مذہبی فسادات بھڑک اٹھے تھے جنہیں تقسیم کے بعد ہندوستان کے بدترین فسادات قرار دیا گیا تھا۔ اس کے آثار بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد نمایاں محسوس کیے جا رہے ہیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کے انتہا پسند عناصر نے پارٹی پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ کیونکہ سابق وزیراعظم اٹل بھاری واجپئی کے ان بیانات کے بعد کہ گجرات کے فسادات نے بی جے پی کی ہار میں اہم کردار ادا کیا یہ توقع کی جا رہی تھی کہ گجرات کے متنازعہ تصور کیے جانے والے وزیراعلیٰ نریندر مودی کے خلاف اجلاس میں کسی اقدام پر غور کیا جائے گا۔ تاہم پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف کارروائی ابھی زیر ُغور نہیں ہے۔ بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے اجلاس سے پہلے کہا تھا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں انتخابات میں شکست کی وجوہات پر بحث کے علاوہ گجرات میں ہونے والے فسادات پر بھی بات چیت ہوگی۔ بی جے پی کا یہ اجلاس چوبیس جون تک جناری رہے گا۔
بی جے پی کا پارلیمانی بورڈ پارٹی میں فیصلے کرنے والا سب سے اہم ادارہ ہے اور اس کے نو ارکان ہیں۔ پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں پارٹی کے سربراہ ونکایا نائیڈو، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، جسونت سنگھ، سشما سواراج، پرمود مہاجن، ارون جیٹھلی اور شِو راج سنگھ شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||