ایودھیا تنازعہ کا حل قومی یادگار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے رہنما بال ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ایودھیا میں جاری دیرینہ تنازعہ اس مقام پر صرف قومی یادگار تعمیر کرکے حل کیا جا سکتا ہے۔ ایودھیا میں جس مقام پر بابری مسجد تھی وہاں ہندوؤں کے دعوے کے مطابق کبھی رام مندر ہوا کرتا تھا۔ بی بی سی سے ایک انٹرویو میں بال ٹھاکرے نے کہا کہ یہ قومی یاد گار سپاہی منگل پانڈے سے اظہار عقیدت کے لیے بنائی جا سکتی ہے جنہوں نے روایت کے مطابق اٹھارہ سو ستاون میں برطانوی افسروں پر پہلی گولی چلائی تھی جس کے بعد جنگ آزادی شروع ہوئی تھی۔ بال ٹھاکرے کے مطابق اس یادگار کے قریب ایک مندر اور کچھ فاصلے پر مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے۔ بارہ سال قبل اس مقام پر موجود بابری مسجد کو ہندو کارکنوں نے مسمار کر دیا تھا جس کے بعد ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات میں تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||