بابری مسجد تاریخ کے آئینے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتہا پسند ہندو آج بھی شمالی بھارت کے قصبے ایودھیا میں اس مقام پر مندر کی تعمیر کے بارے میں پر عزم ہیں جہاں 1992 میں بابری مسجد منہدم کر دی گئی تھی۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے اس متنازعہ مقدس مقام کو تاریخ کے آئینے میں پیش کیا ہے۔ 1528: ایک ایسے مقام پر مسجد کی تعمیر جو ہندوؤں کے دعویٰ کے مطابق 1853: ایودھیا کے پہلے مذہبی فسادات۔ 1859: برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے عبادت کی جگہ کی تقسیم کر دی گئی۔ 1949: مسجد کے اندر سے ’رام‘ کی مورتی کی دریافت۔ حکومت نے متنازعہ مقام قرار دے کر مسجد بند کروا دی۔ 1984: وشوا ہندو پریشد کی جانب سے’رام‘ کی جائے پیدائش کو آزاد کروانےکے لیے تحریک کا اعلان۔بی جے پی کے رہنما لال کرشن ایڈوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی۔ 1986: ضلعی عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازعہ مقام پر پوجا کی اجازت۔ مسلمانوں کا جانب سے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام۔ 1989: وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی۔ 1990: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں نے مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے مسئلے کے حل کی کوشش۔ 1991: ریاست اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کا قیام۔ 1992: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں کی جانب سے بابری مسجد کا انہدام۔ ہندو مسلم فسادات، دو ہزار افراد ہلاک۔ 2001: انہدام کے نو برس مکمل ہونے پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کا عزمِ نو۔ جنوری 2002: وزیرِاعظم واجپئی کے دفتر میں ’ایودھیا سیل‘ کا قیام۔ فروری 2002: بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور میں سے رام مندر کی تعمیر کی شق خارج۔ ایودھیا سے واپس آنیوالے ہندوؤں کی ٹرین پر حملہ اٹھاون ہلاک۔وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کےآغاز کے لیے پندرہ مارچ کی تاریخ کا اعلان۔ مارچ2002: گجرات مسلم کش فسادات میں دو ہزار افراد ہلاک۔ اپریل 2002: ایودھیا کے متنازعہ مقام کی ملکیت کے بارے میں مقدمے کی سماعت کا آغاز۔ جنوری 2003: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے عدالت کے حکم پر متنازعہ مقام کےجائزہ کا آغاز۔ اگست2003: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے مسجد کے نیچے مندر کی موجودگی کے شواہد کا اعلان۔ مسلمانوں کی جانب سے اعتراضات۔ ستمبر 2003:عدالت کی طرف سے بابری مسجد کے انہدام پر ا کسانے کے الزام میں سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ۔ اکتوبر 2003: مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ۔ دسمبر 2003: انہدام کی گیارہویں برسی پر حیدرآباد دکن میں فسادات۔ پانچ افراد ہلاک۔ جولائی 2004: شیوسینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے متنازعہ مقام پر قومی یادگار کی تعمیر کی تجویز۔ اکتوبر2004: لال کرشن ایڈوانی کی جانب سے مندر کی تعمیر کی عزم کا اعادہ۔ نومبر 2004: الہٰ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ میں لال کرشن ایڈوانی کو نوٹس۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||