ایودھیا کا آنکھوں دیکھا حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ بابری مسجد رام جنم بھومی کی عمارت کے پیچھےایک سڑک جاتی ہے اس سڑک کو وید مندر روڈ کہا جاتا ہے۔ یہ عمارت لوہے کے جال سے گھری ہوئی ہے۔اسی سڑک پر رام جنم بھومی پولیس تھانہ ہے اور سی آر پی ایف کا کیمپ بھی ہے۔یہیں پر شدت پسندوں نے اپنی جیپ کھڑی کی اور جیسا کے پولیس کا اندازہ ہے کہ ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا۔ اس دھماکے سے حفاظتی دیوار میں ایک بڑا سوراخ ہو گیا اور شدت پسند وہیں سے اندر داخل ہو گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ متنازعہ مقام تک جانا چاہتے تھے جہاں بابری مسجد تھی اور اب وہاں رام کی مورتی رکھ دی گئی ہے۔ ہمارے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی کا کہنا ہے ’جب میں وہاں پہنچا تو جیپ کے پاس ایک لاش پڑی تھی اور ارد گرد خون بکھرا پڑا تھا۔ دو لاشیں الگ الگ مقامات پر پڑی تھیں اور ایک لاش کچھ دوری پر تھی۔وہاں مجموعی طور پر چھ لاشیں تھیں‘۔ ان شدت پسندوں کے پاس تھیلا تھا جن میں ہتھ گولے نظر آرہے تھے پولیس نے بتایا کہ ان کے پاس سے پستول بھی تھا۔ حفاظتی دستے کے اہلکاروں نے بتایا کہ ان کے پاس راکٹ لاؤنچر بھی تھا جو انہوں نے چلایا بھی تھا لیکن نشانہ چوک گیا تھا۔ ’وہاں کے حالات دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ حملہ منظم طریقے سے کیا گیا تھا‘۔ متنازعہ عمارت کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات ہیں۔
حملہ آور اس عمارت کے نقشے سے اچھی طرح واقف تھے اور حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر کاروائی میں زرا بھی تاخیر ہوتی تو حالات بے قابو ہو سکتے تھے۔ پولیس کے مطابق حملے اور جوابی کاروائی میں ایک عورت اور سی آر پی ایف کے جوانوں سمیت حفاطتی دستے کے چار جوان زخمی ہوئے ہیں۔ ایودھیا کی یہ عمارت ہندو اور مسلمان دونوں ہی کے لئے اہم ہے علاقے میں دونوں ہی مذاہب کے لوگوں نے اس حملے کی مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ہوا ٹھیک نہیں ہوا ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||