BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 July, 2005, 02:25 GMT 07:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایودھیا حملہ: ملک گیر ہڑتال کی کال
News image
حفاظتی انتظامات میں غفلت ہوئی ہے ورنہ شدت پسند مندر تک نہیں پہنچ پاتے: واجپئی
ایودھیا میں متنازع مذہبی کمپلیکس میں واقع عارضی رام مندر پر گزشتہ روز کے حملے پر احتجاج کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدھ کو پورے ملک میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ لال کرشن ایڈوانی نے کہا ہے کہ وہ احتجاج میں حصہ لینے کے لیے ایودھیا جائیں گے۔ اس سے قبل ایل کے اڈوانی نے کہا تھا کہ ’رام مندر پر حملے کا معاملہ نہایت سنگین معاملہ ہے اور اس کا ردعمل بھی بہت سنگین ہو گا‘-

رام مندر پر منگل کی صبح چھ حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا۔ ان چھ حملہ آوروں میں سے ایک نے اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا تھا جبکہ دیگر حملہ آور دو گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے رام مندر پر حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ تمام ریاستوں کو یہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ مذہبی مقامات پر مناسب حفاظتی اقدامات کریں۔

دلی میں بی سی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ وزیرِاعظم من موہن سنگھ کا بیان ملک گیر فرقہ واریت کے خدشے کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبر دی ہے کہ اکا دکا چھوٹے واقعے کو چھوڑتے ہوئے بھارت میں رام مندر پر حملے کا ردِ عمل خراب نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ منگل کے واقعے کے بعد وشو ہندو پریشد نے تو پاکستان پر حملہ تک کرنے کا مطالبہ کر دیا تھا لیکن لوگوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔

شکیل اختر کا کہنا ہے کہ بھارت کی ان ریاستوں میں جہاں بے جی پی اقتدار میں ہے، ہڑتال کامیاب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کسی بھی تنظیم نے رام مندر پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حملہ آوروں کے بارے میں مزید کسی قسم کی بھی کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

بھارتی اخبارات میں بھی رام مندر پر حملے کے بعد احتیاط اور صبر کی پیغام دیا گیا ہے اور بعض اخباروں نے اپنے اداریوں میں یہ لکھا ہے کہ اگر کسی ریاست میں اس حملے کی وجہ سے فرقہ وارانہ صورتِ حال خراب ہو وہاں فوراً صدر راج نافذ کر دیا جائے۔

وشو ہندو پریشد نے بدھ کو چار بجے شام رام مندر پر حملے کے پس منظر میں ایک اہم اجلاس بلایا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ عام لوگوں پر ہڑتال اور جذبات بڑھکانے کے نعروں کا زیادہ اثر نہیں ہوگا کیوکہ ہندو اور مسلمان دنوں ہی اس وجہ سے متفکر ہیں اور امن چاہتے ہیں۔

دلی سے بی بی سی کی نامہ نگار نادیہ پرویز کے مطابق سابق وزیر عظم اٹل بہاری واجپیئی نے کہا ہے کہ ایودھیا کے متنازعہ مندر پر حملے سے ہند پاک مذاکرات کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا ’ بات چیت جاری رہنی چاہیئے ساتھ ساتھ پوری طرح تیار بھی رہنا چاہیئے۔‘

واجپئی نے کہا کہ شدت پسندوں نے دانستہ طور پر رام مندر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاکہ پورے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جا سکے۔

مسٹر واجپيئی نے یہ بھی کہا کہ ’حفاظتی انتظامات میں غفلت ہوئی ہے ورنہ شدت پسند مندر تک نہیں پہنچ پاتے۔‘

سابق وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئیے کہ وہ اندرونی سلامتی کے اقدامات بہتر کرے۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کے سینئر رہنمااور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے کہا کہ ’یہ حملہ صرف مندر پر نہیں بلکہ پوری ہندو قوم پر ہوا ہے۔‘

انہو ں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ حفاظتی انتظامات ميں لاپرواہی برتنے کا نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے شدت پسندوں کے سلسلے میں نرم پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس سے شدت پسندوں کو حوصلا ملا ہے ۔

بائيں بازو کی جماعتوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد متنبہ کیا ہے جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے وہ ماحول خراب کرنے کے لئے مستقبل میں بھی اسی طرح کی حرکتیں کر سکتے ہیں۔

مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتا رام یچری نے کہا کہ اس واقعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانا انتہائی غلط ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد