BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی جے پی کا ’بھارت بند‘

وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے کارکنان
ریلی میں وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے کارکنان نے بھی شرکت کی
متنازعہ بابری مسجد و رام جنم بھومی پر حملے کے خلاف بی جے پی اور اسکی حلیف ہندو نظریاتی تنظیموں کے’ بھارت بند‘ کا ملک بھر میں ملا جلا اثر دیکھنے میں آیا ہے۔

حکومت نے اس ہڑتال سے نمٹنے کے لیے پورے ملک میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ ایودھیا میں احتیاطاً دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا گيا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ہڑتال کا زیادہ اثر ان ریاستوں میں ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔

دلی میں بی جے پی کے صدر ایل کے اڈوانی کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی ہے جبکہ اس موقع پر کئی رہنماؤں نے گرفتاریاں بھی دی ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے لعل کرشن اڈونی نے کہا کہ’ رام مندر کا ایشو ابھی زندہ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہزاروں مندر ہیں لیکن ایودھیا پر حملہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ ہندو تہذیب کا گہوارہ بن گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ’این ڈی اے حکومت چاہتی تھی کہ عدالت وہاں مندر بنانے کی اجازت دے یا پھر دونوں جانب کے رہنما بات چیت کریں اور مندر وہیں بن جائے‘۔

اس موقع پر ایودھیا میں رام مندر بنانے کے نعرے لگائےگئے اور خود ایڈوانی نے بھی اپنے خطاب کے اختتام پر جے شری رام کا نعرہ بلند کیا۔ اس ریلی میں وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔

ایودھیا میں بی بی سی کے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ہڑتال کا اثر فیض آباد اور ایودھیا میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم مدھیہ پردیش سے کچھ توڑ پھوڑ کی خبریں ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بی جے پی کے کارکنان نے رائے پور کے ایئرپورٹ پر ایک پرائیویٹ مسافر طیارے کو بھی کافی دیر تک روکے رکھا جبکہ جھارکھنڈ میں مظاہرین نے ٹرینوں کی آمد و رفت میں رخنہ اندازی کی ہے۔

وفاقی حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی بندبست کیے ہیں۔ دلی سمیت کئی جگہوں پر ریڈ الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق نیشنل سکیورٹی گارڈز کو دلی ہوائی اڈے پر تیار رہنے کو کہا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں کسی بھی وقت ایودھیا روانہ کیا جا سکے۔ اسی دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بار پھر سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن اور بھائی چارے کا ماحول بنانے میں مدد کریں۔

حالات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل اور اترپردیش کے وزیرِاعلی ملائم سنگھ یادو ایودھیا پہنچنے والے ہیں۔ تاہم بی جے پی کے صدر لعل کرشن اڈوانی نے ایودھیا جانے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد