ایودھیا: اڈوانی پر فرد جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بابری مسجد کو گرانے کے لیے لوگوں کو اکسانے کے جرم میں بی جے پی کے صدر ایل کے اڈوانی پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ ہندوستان کی ایک عدالت میں حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی کے خلاف بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ مسٹر اڈوانی اس معاملے میں ایک خصوصی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ اتر پردیش کی رائے بریلی کی ایک خصوصی عدالت میں مسٹر اڈوانی کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے سات سینئر رہنما بھی عدالت میں پیش ہوئے ہیں ۔ بی جے پی کے رہنماؤں میں مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی ونیے کٹیار اور وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں میں اشوک سنگھل اور گریراج کشور شامل تھے۔ مسٹر اڈوانی پر الزام ہے کہ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام کے روز یعنی چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ایودھیا میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ ان کے ساتھیوں پر یہ بھی الزام ہے انہوں نے بابری مسجد پر حملہ کرنے کے لیے کارسیوکوں کو ترغیب دی تھی۔ عدالت نے مسٹر اڈوانی اور انکے سات ساتھیوں کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے لیکن انہیں آئندہ مہینے کی 30 تاریخ کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گيا ہے ۔ اس معاملے میں 2003 میں رائے بریلی کی عدالت نے تکنیکی بنیاد پر مسٹر اڈوانی کو سبھی الزاموں سے بری کر دیا تھا لیکن بعض مسلمانوں نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر دی تھی۔ س کے بعد ہائی کورٹ نے چھ جولائی کو مسٹر اڈوانی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف دوبارہ مقدمہ شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ مسٹر اڈوانی کے خلاف یہ فرد جرم ایک ایسے وقت میں داخل کی گئی ہے جب خود بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ ہیں ۔ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں یہ کہہ رہی ہیں کہ مسٹر اڈوانی ہندویت کے نظریے سے بھٹک گئے ہیں اور انہیں بی جے پی کے صدر سے مستعفیٰ ہو جانا چاہیئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||