BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 September, 2005, 08:41 GMT 13:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی شیروں کی کھالوں کی تجارت
چین میں لوگ شیر کی کھال سے بنا لباس پہنتے ہیں
جانوروں کے تحفظ کے دو گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ چین میں بھارتی شیروں کی کھالوں کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے۔

بھارتی شیروں کی نسل کو درپیش خطرے کے پیشِ نظر ان کی حفاظت اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کنونشن پر چین اور بھارت دونوں نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔

ماحولیاتی تحقیقاتی ایجنسی اور جنگلی حیات کے بچاؤ کی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے چین میں فروخت کی جانے والی تمام کھالیں بھارتی شیروں کی ہیں۔

ایجسینوں کے مطابق یہ خریدوفروخت زیادہ تر تبت کے خودمختار علاقے میں کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ان ایجنسیوں نے ایک تحقیقاتی ویڈیو بھی تیار کی ہے جو کہ دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دکھائی گئی۔ اس ویڈیو میں تبتی حکام، ایک استاد اور بچوں کو شیر کی کھال سے بنے کپڑے پہنے دکھایا گیا ہے۔

جنگلی حیات کے بچاؤ کیلیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سلسلے میں فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جلد ہی بھارت میں شیروں کی نسل ناپید ہو جائے گی۔

بھارتی جنگلی حیات کے بچاؤ کی سوسائٹی کی سربراہ بلنڈا رائٹ کا کہنا تھا کہ’ یہ شیروں سے متعلق ایک اور بحران نہیں ہے بلکہ یہ حتمی بحران ہے‘۔

تحقیقاتی ویڈیو میں مس رائٹ کو بہت سی ایسی دکانوں پر جاتے دکھایا گیا ہے جہاں شیر کی کھالیں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ ویڈیو میں ہی دکاندار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تمام کھالیں بھارت سے آتی ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے اس برس کے آغاز میں راجھستان کے سرسکا علاقے میں شیروں کے غیر قانونی شکار کے بعد اس کی نسل کے خاتمے سے متعلق رپورٹوں کے سامنے آنے کے بعد ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی۔

اس ٹاسک فورس کے رکن ولمک تھاپر کا کہنا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ مجھے کھالوں کی اس پیمانے پر تجارت کا علم نہیں تھا۔ یہ بہت چونکا دینے والی بات ہے‘۔

ایک صدی قبل ایشیا میں قریباً ایک لاکھ شیر تھے جب کہ اب دنیا بھر میں ان کی تعداد گھٹ کر صرف پانچ ہزار رہ گئی ہے اور ان میں سے نصف بھارت کے جنگلوں میں رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد