BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 February, 2005, 15:50 GMT 20:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی کے بندر جائیں تو جائیں کہاں؟

بندر
ملک کے تقریبًا ایک تہائی جنگلات ریاست مدھیہ پردیش میں ہیں
مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات نے دلی کے بندروں کو اپنے جنگلوں میں رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ محکمے کے مطابق دلی کے بندر آبادی والے علاقے میں رہنے کے عادی ہیں اور ممکن ہے وہ مدھیہ پردیش میں بھی انسانی آبادی والے علاقوں میں چلے جائیں۔ دلی میں بندروں کی کثرت ہے اور انتظامیہ نے مدھیہ پردیش میں انکی منتقلی کی درخواست کی تھی۔

ملک کے تقریبًا ایک تہائی جنگلات ریاست مدھیہ پردیش میں ہیں اور دلی کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ یہاں کے بندروں کو ان جنگلات میں آباد کیا جائے لیکن مدھیہ پردیش فاریسٹ ڈپارٹمنٹ اس بندربانٹ کے لیے راضی نہیں ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ماضی میں دلی انتظامیہ کے کہنے پر دلی کے تقریبا ڈھائی سو بندروں کر مدھیہ پردیش میں چھوڑا گيا تھا لیکن اس فیصلے پر حکومت پر کافی نکتہ چینی ہوئی تھی۔

دلی کے کئی علاقوں میں بندروں کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے بعض جگہوں پر عام زندگي متاثر ہوتی ہے۔ کافی شکایات کے بعد گزشتہ برس انتظامیہ نے بہت سے بندروں کو پکڑا تھا۔ یہ بندر ایک خاص مقام پر رکھے گئے ہیں اور دلی کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ انہیں مدھیہ پردیش کے گھنے جنگلوں میں بھیج دیا جائے۔

مدھیہ پردیش حکومت ایشیا کے خصوصی شیروں کو بسانے کے لئے ’ریزروڈ فارسٹ‘ تیا ر کر رہی ہے۔ ہندوستان میں ایشیائی شیر فی الحال صرف گجرات میں ’گر‘ کے جنگلوں میں پائے جاتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے افسران کا کہنا ہے اگر ان بندروں کو کوئی بیماری ہوئی تو یہ دوسرے جانوروں میں بھی پھیل سکتی ہے۔ حلانکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پکڑنے کے بعد دلی کی انتظامیہ ان کی اچھی طرح سے جانچ کرتی ہے۔

فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک دوسرے کارکن کا کہنا تھا کہ دلی سے لائے گئے بندر کافی حد تک پالتو ہیں اور آبادی کے قریب ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ان بندروں کی تعداد جنگلوں میں زیادہ ہوگئی اور انہوں نے آبادی کا رخ کر لیا تو ہمیں بھی وہی پریشانیاں اٹھانی پڑیں گي جو دلی میں ہوئی ہیں۔

اگر چہ دلی اور مدھیہ پردیش کے افسران کچھ کہنے سے گریز کرتے ہیں لیکن اس پورے معاملے میں کہیں نہ کہیں پیسوں کے لین دین کا سوال بھی موجود ہے۔مثال کے طور پر دلی حکومت نے مدھیہ پردیش کو پورے پیسے نہیں ادا کیے ہیں۔ اکیاون لاکھ میں سے ابھی 25 لاکھ روپے ہی ادا کیے گئے ہیں ۔

یہ رقم جانوروں کو جنگل میں لے جاکر چھوڑنے اور ان کے شروع کے دنوں کی دیکھ بھال کے لئے دیے جانے تھے۔ مدھیہ پردیش کی حکومت نے اس کام کے لئے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم طلب کی تھی ۔ لیکن بعد میں دونوں ریاستوں کے درمیان 51 لاکھ میں بات طے ہوگئی تھی۔

مدھیہ پردیش حکومت کے اس رویے سے دلی انتظامیہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ان بندروں کی رسائی صدر کی رہائش گاہ، وزیر اعظم اور وزارت خارجہ تک ہوگئی ہے اور ان دفتروں میں ’ٹاپ سیکرٹ‘ فائلوں کا نکالنا تک مشکل ہے کہ نہ جانے کب بندر فائلوں پر جھپٹ کر حملہ کر دیں۔ گزشتہ دنوں وزارت خارجہ کے دفتر میں چند اہم فائلیں بکھری پڑی ملی تھیں۔

ایک وزیر کئی ماہ تک اپنے سرکاری بنگلے میں نہیں رہ سکے کیونکہ خالی پڑے اس گھر کو بندروں نے اپنی پناہ گاہ بنا لیا تھا۔

دلی حکومت کی ’بندر پکڑ مہم‘ بھی چل ہی رہی ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ پکڑنے کے بعد ان جانوروں کا کیا کیا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد