سندر بن کے شیروں کی گنتی شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے سندر بن جنگلوں میں سائنسدان رائل بنگال ٹائیگروں کی گنتی شروع کر رہے ہیں۔اس سے پہلے سندر بن کے اس حصے میں بھی اسی طرح کی گنتی کی گئی تھی جو ہندوستان میں واقع ہے۔ اس گنتی کا مقصد بنگلہ دیش اور ہندوستان کی سرحد پر واقع سندر بن کے جنگلات میں، جو دنیا کے سب سے بڑے مینگرو جنگل ہیں، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کرنا ہے۔ ان جنگلات کے ہندوستان میں واقع حصے میں کی جانے والی گنتی سے پہلے لگائے گئے اندازوں کے برعکس یہ پتہ چلا تھا کہ شیروں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگلے ایک ہفتے کے دوران بنگلہ دیش کے سندر بن جنگلوں میں پچاس ٹیمیں رائل بنگال کے شیروں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگائیں گی۔ ان جنگلات میں شیروں کی نشاندہی کرنا بہت مشکل کام ہے لہٰذا سائنسدان ان کے پیروں کے نشانات اور اور دیگر طریقوں سے ان کی تعداد کا اندازہ لگائیں گے۔ انسانی فنگر پرنٹ کی طرح ہر جانور کے پیروں کے نشانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ پچھلے مہینے ہندوستان میں ہونے والی گنتی کے اعدادوشمار اگرچہ ابھی حتمی شکل میں سامنے نہیں آئے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں شیروں کے بچوں کی خاصی بڑی تعداد کے نشانات ملے ہیں۔ سندر بن میں رہنے والےان شیروں کےساتھ وہاں انسانی آبادی کے بہت سے حادثات رونما ہوتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال بیس کے قریب افراد شیروں کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن وہ شیر جو بھٹک کر دیہات میں چلے جاتے ہیں وہ مارے جاتے ہیں۔ اس گنتی کے مکمل نتائج جولائی تک سامنے آئیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||