شیروں کی سب سے بڑی پناہ گاہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کی حکومت نے دنیا میں شیروں کی سب سے بڑی پنا گاہ بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ شیروں کو بچانے کے اِس منصوبے کے تحت وادی ہوکانگ کی پنا گاہ کے رقبے کو تین گنا بڑھا کر بیس ہزار مربع کلومیٹر کر دیا جائے گا۔ اس خبر سے ماحولیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ماہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین سن دو ہزار تین میں ہونے والی شیروں کی گنتی سے سخت پریشان تھے جس کے مطابق ملک میں شیروں کی تعداد کم ہو کر صرف ڈیڑھ سو سے دو سو کے درمیان رہ گئی تھی۔ نیو یارک میں قائم بین الاقوامی تنظیم وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے ناظم ایلن رابینووٹز نے برما کے اخبار میانمار ٹائمز کو بتایا کہ پناہ گاہ کے رقبے میں اضافے کے بعد یہ دنیا میں شیروں کی سب سے بڑی پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے انگریزی زبان کے جریدے ’نیشنل جوگریفک‘ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ برما میں تین پناہ گاہیں ایسی ہیں جن کی حدیں ہمسایہ ممالک بھارت اور تِبت میں پناگاہوں سے ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اِن ملحقہ پناگاہوں کا کُل رقبہ تیس ہزار مربع کلومیٹر تک جا پہنچتا ہے جو بیلجیم کے رقبے کے برابر ہے۔ برما کی نئی پنا گاہ میں شیروں کے علاوہ ایشیائی ہاتھی، ایشیائی کالے ریچھ اور جانوروں کی کئی دیگر نسلیں بھی محفوظ رہتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس علاقے کو محفوظ بنانے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ رابینووٹز کا کہنا تھا کہ شیر کے اعضا کی قیمت دو سو ڈالر فی کلوگرام ہے جو اس علاقے میں بہت سے لوگوں کی سالانہ آمدن سے زیادہ ہے۔ شیروں کی کھال، سر اور پنچے کے علاوہ اس کی ہڈیاں اور اندرونی اعضا ایشیا میں ادویات بنانے کے کام آتے ہیں۔ شیر کے اعضا کی سب سے بڑی منڈی چین میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||