بھارتی ڈاکوؤں کے انوکھے مقابل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی پولیس نےامید ظاہر کی ہے کہ ملک کےمرکزی حصےمیں ڈاکوں کی وجہ سے بدنام علاقے میں شیر چھوڑے جانے سےامن و امان کی صورت حال بہتر ہو جائے گی۔ چمبل کے تین سو اکہتر ایکٹر پر مشتمل ندی نالوں والے علاقے کواترپردیش کی حکومت سفاری پارک میں تبدیل کرنے کا اور ڈاکوؤں کی آماجگاہ کی وجہ سے بدنام اس علاقے میں پانچ شیر چھوڑنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ شیروں کی موجودگی کی وجے سے ڈاکو یہ علاقہ چھوڑ کرچلے جائیں گے اور جرائم کی صورت حال بہتر ہوجائے گی۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اس علاقے میں اغواء کی چار ہزاراورقتل کی ایک سو اسی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ پولیس کےسینئرافسر دلجیت سنگھ چوہدری کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سفاری پارک کے بننے سے یہاں سیاحوں کی آمدروفت بڑھ جائے گی اور ڈاکوں کسی اور محفوظ جگہ کی تلاش کریں گے۔ اترپردیش کے چیف وائلڈ افیسر محمد حسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے شیر حاصل کرنے کے لیے بھارت کے مختلف پارکوں سے رابطہ کیا ہے جہاں شیر ہیں اور ایسے شیرحاصل کرنا چاہتے ہیں جن کی عمریں چار سے پانچ سال ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ پارک کے چاروں طرف مضبوط باڑ لگائی جائے گی اور شیروں کو روزانہ بیل کا دس سے چودہ کلو گوشت کھانے کے لیے دیا جائےگا۔ لیکن ماحولیات کے ماہرین نےاس بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں یہ شیر خود ہی ڈاکوؤں کا نشانہ نہ بن جائیں۔ وائلڈ لائف کےسائنسدان عمر قریشی کا کہنا ہے کہ ڈاکو ان شیروں کو مار دیں گے۔ اس سے پہلے بھی مشرقی اتر پردیش میں اس طرح کا ایک پارک بنانے کی کوشش کی جاچکی ہے جہاں شیروں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا لیکن بعد میں یہ تعداد کم گئی۔ چمبل کا علاقہ ڈاکوؤں کی جنت سمجھاجاتا ہے۔ انیس سو اسی میں بھارت کی معروف ڈاکو پھولن دیوی نے بھی ہتھیار ڈالنے سے پہلےاس علاقے پر حکمرانی کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||