اتر پردیش: دماغی بخار 151 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست اترپردیش میں جاپانی دماغی بخار سے مرنے والوں کی تعداد کم ازکم ایک سو اکیاون تک پہنچ گئی ہے۔ ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں جاری کیے گئے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان میں سے ایک سو انچاس افراد صرف مشرقی ضلعےگورکھپور میں ہلاک ہوئے جبکہ بہرائچ میں دو لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں میں بہت سی اموات کی اطلاع حکام تک نہیں پہنچ پاتی جس کی بناء پر خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری میں اب تک ساڑھے پانچ سو افراد مبتلا ہوچکے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے لگ بھگ ابھی بھی اسپتالوں میں داخل ہیں۔ گورکھپور میں بچوں کے امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر کے پی کشواہا نے بی بی سی کو بتایا کے ہر روز چالیس سے پچاس نئے مریض آرہے ہیں ۔ ان کے مطابق اب اسپتال کی راہداریوں میں بھی مریضوں کو رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر مریض دیہی علاقوں کے انتہائی غریب افراد ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق گزشتہ اٹھائیس برسوں میں اس دماغی بخار سے کل سات ہزار سات سو چونتیس لوگ ہلاک ہوچکے ہیں تاہم لکھنؤ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف مائیکرو بیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ٹی این دوہل کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں بہت سے ملکوں نے صرف ایک ٹیکے کے ذریعے اس مرض کا مقابلہ کامیابی سے کیا ہے۔ لیکن بھارت میں ماہرین نے مرض کے مقابلے میں ناکامی کے لیے حکومت کو الزام دیا ہے۔ بھارت میں سرکاری شعبے میں صرف ایک کارخانے میں دماغی بخار کا ٹیکہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کارخانہ ضرورت کے ڈیڑھ کروڑ سالانہ ٹیکوں میں سے صرف دو لاکھ ٹیکے اس برس بناپایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||