صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی |  |
دارلحکومت دلی میں منن جائٹسٹ یعنی گردن توڑ بخار بیماری سے تقریبا پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سو سے زائد مریضوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ یہ بیماری ’مننگوکل‘ نامی ایک بیکٹریا سے پھیلتی ہے اور عام طور پر اس کا آغاز دماغی بخار ہوتا ہے لیکن اس کا علاج آسان ہے۔ دلی حکومت نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے بہت سے انتظامات کیے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے لیے کئی طرح کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ لیکن مرکزی وزیرصحت رامو داس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گردن توڑ بخار نے ابھی وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے۔ اس بیماری کے اثرات اتنے خطرناک ہیں کہ متاثرہ شخص کے بعض اعضاء ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ تیز بخار کے ساتھ پورے بدن پر سرخ دانے نکلتے ہیں۔ الٹیاں ہوتی ہیں اور مریض بے ہوش بھی ہوسکتا ہے۔ دلی میں ابھی تک یہ بیماری بھیڑ بھاڑ والے علاقوں تک ہی محدود ہے۔ اور انتظامیہ نے بھیڑ والے علاقوں میں نہ جانے کی ہدایات دی ہیں۔ دلی میں باڑہ ہندوراؤ کے ایک سینئر ڈاکٹر اجیت کمار گوئیل کا کہنا تھا ’ایسی حالت میں مریض کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اسے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے  |  دلی میں ابھی تک یہ بیماری بھیڑ بھاڑ والے علاقوں تک ہی محدود ہے | اوراگر فوری علاج ہو تو مریض آرام سے شفا یاب ہوجائےگا‘ ۔ ڈاکٹر اجیت کے مطابق اس مرض کا علاج سستا اور آسان ہے لیکن لاپرواہی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔دلی کی پڑوسی ریاست ہریانہ میں بھی انتظامیہ نے شعبہ صحت کے حکام کو گردن توڑ بخار سے متنبہ کردیا ہے۔ ہندوستان میں ماضی میں بھی منن جائٹسٹ یا گردن توڑ بخار کی وبا پھیل چکی ہے۔ اس وقت تقریبا آٹھ سوافراد ہلاک ہوئے تھے۔ |