کینیڈا: حکام مرض سے پریشان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کے محکمہ صحت کے حکام ملک کے ہسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں پائے جانے والے انفیکشن سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس انفیکشن کی وجہ سے پچھلے اٹھارہ ماہ میں ایک سو نواسی مریض موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ ایک نئے سروے میں ماہرین کو معلوم ہوا ہے کہ اس انفیکشن کی وجہ سے ہیضے اور دست وپیچش اور آنتوں کی سوجن جیسی بیماریاں بڑھ گئی ہیں۔ ایک نئی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینسٹھ سال سے زائد عمر کے مریضوں میں اس مرض کے اثرات کی شرح دس گنا بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا جو اس صورتحال سے نمٹ رہے ہیں خیال ہے کہ اب یہ انفیکشن وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کا اثر ان مریضوں پر ہوتا ہے جن کو کسی اور بیماری کے لیے اینٹی بایوٹک دیے گئے ہوں۔ ایسے مریضوں میں جو کیموتھیرپی اور پیٹ کی سرجری سے گزر رہے ہوں اس انفکشن کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ کیوبک کے ایک ہی ہسپتال میں اٹھارہ ماہ میں اس کی وجہ سے ایک سو مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ایسے جراثیموں سے بھی پھیلتا ہے جو ٹائلٹ میں پائے جاتے ہیں۔ابھی تک یہ مرض کیوبک صوبے اور مغربی شہر کیلگاری کے ہسپتالوں تک محدود ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ تمام ہسپتالوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حفظان صحت کے اصولوں جیسے ہاتھ دھونا اور باتھ روم کی صفائی پر زیادہ توجہ دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||