سُر کریں بیمار: موسیقار ہوشیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ریاض کرنا موسیقاروں کے اعصاب کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوتا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کسی بھی موسیقار کے لیے ایک اچھی دھن بنا دینے سے بڑی کامیابی کوئی اور نہیں ہوتی لیکن اس عمل کے دوران بار بار ایک یا ایک سے زائد موسیقی کے آلات کا بجایا جانا اور ان آوازوں کا سماعت سے گزرنا انسانی اعصاب کے لیے صحت مند نہیں ہوتا ہے۔ یا یہ کہا جائے کے ذہن کے تار ریاض کرنے سے الجھ جاتے ہیں ان کو نئے سرے سے سلجھانے اور کارآمد بنانے کے لیے ماہرین مختلف تجربوں کی مدد لے رہے ہیں۔ برطانوی ماہرین کے مطابق اس عمل سے دس میں ایک موسیقار کو یقینی طور پر اعصاب کی ایک پراسرار بیماری ہو جاتی ہے۔ جس کے باعث انسانی ذہن مخصوص قسم کی نقل و حرکت کے قابل نہیں رہتا ہے۔ چونکہ موسیقار نوعمری سے ریاض شروع کر دیتے ہیں اس لیے ان کے اعصاب بھی بچپن ہی سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ ماہرین اس پراسرار بیماری کے معالجے کی کوششوں میں تو لگے ہوئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے موسیقی کے طلبا کو ریاض کے دوران مناسب وقفے ضرور دینے چاہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||