رقص سلجھائے ذہنی الجھنیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رقص کرنا جہاں جسم کے لیے اچھا ہے وہیں صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ایک بہترین ذہنی ورزش بھی ہے۔ کئی برسوں سے ذہنی امراض کا شکار افراد کے لیے رقص کے زریعے ذہنی صحت کو بہتر بنانےکے لیے ’دی ریچ 4 ‘ نام کا ایک دلچسپ اور حوصلہ مند منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے ۔ ’دی ریچ 4‘ کے دوران ذہنی امراض کے شکار افراد کے سامنے رقاص مختلف طرح کے رقص پیش کرکے ذہنی الجھنوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سارہ کُک نے انیس ایسی خواتین کے لیے جو کئی سال سے ذہنی طور پر غیر صحت مند تھیں ان کے لیے اس طریقہء علاج کو آزماتے ہوے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا جس میں ’ردمذ 5‘ کا طریقہ استعمال کرتے ہوے خواتین کو اُن کے احساسات کی دُھن پر رقص کرنے پر آمادہ کیا۔ رقص کے دوران جسمانی اعضاء کی حرکات کا انسان کے جسم و نفسیات سے گہرا تعلق بتایا جاتا ہے جو ذہنی امراض کے علاج کے لیے سود مند ہو تا ہے۔ رقص کے زریعے ذہنی علاج کرنے والی محقق سارہ کُک کے مطابق وہ خود بھی ذہنی الجھاؤ کا شکار رہی ہیں اور رقص کرنے سے اعصاب اور ذہن کو تقویت ملتی ہے، جس کا تجربہ سارہ کوک نے خود پر بھی آّزمایا ہے۔
اُن کے مطابق رقص کے زریعے نہ صرف آپ اپنے احساسات کا اظہار کر پاتے ہیں بلکہ یہ ایک بہتر طریقہ ااُن احساسات کو جسم سے خارج کرنے کا جو اکثر ذہنی گُتھیوں کا باعث بنتے ہیں۔ جس کے بعد تمام خواتین کا کہنا تھا کہ اس طرح انہیں اپنے احساسات کا مثبت جواب ملا۔ اس طرح لگتا ہے کہ اب ذہنی امراض کے شکار افراد دواوں کے بجائے اپنی الجھنوں کی دھن پر رقص کر کے اپنا علاج ممکن بنا سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||