| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجیوں کو ذہنی بیماری کا خطرہ
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ مختلف ملکوں میں امن مشن پر کام کرنے والے فوجیوں کی ذہنی صحت خطرے میں ہے۔ برٹش میڈیکل جرنل میں لکھنے والے محققین نے سن انیس سو اکیانوے میں شمالی آئرلینڈ میں تعینات فوجیوں کا سروے کیا تھا جس سے اس بات کا اندازہ ہوا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں۔ محققین نے خبر دار کیا ہے کہ اس وقت کوسوو اور بوسنیا میں امن مشن پر کام کرنے والے فوجی بھی نفسیاتی بیماریوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دس سال میں ایسے اقدامات متعارف کرائے ہیں جس سے فوجیوں کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ لندن کے گیز، کنگز اور سینٹ تھامس طبی اسکولوں سے تعلق رکھنے والے محققوں نے پیدل فوج کی ایک بٹالین کے ڈیڑھ سو سپاہیوں کا سروے کیا۔ ان سپاہیوں کا شمالی آئرلینڈ میں تعیناتی سے دو ہفتے پہلے اور چھ ماہ پر محیط ڈیوٹی کے ختم ہونے سے دو ہفتہ پہلے معائنہ کیا گیا۔ ان کی ذہنی صحت کا جائزہ ذہنی بے چینی، تنہائی اور سماجی تعلق کے بنیاد پر کام کرنے والے ایک مسلمہ ٹیسٹ کی مدد سے لیا گیا۔ اس ٹیسٹ کے بعد اندازہ ہوا فوجیوں میں ذہنی امراض کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس ٹیسٹ سے یہ بھی پتا چلا کہ دورے کے بعد فوجیوں کے جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے متاثر ہونے کے امکانات تین گنا زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی بے چینی اور تنہائی میں خاصا اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈپریشن کی صورت حال میں بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ کے فوجیوں کی ذہنی صحت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لئے تو بہت کام ہو چکا ہے لیکن اس سے پہلے امن مشن اور فوجیوں کے نفسیاتی مسائل کے تعلق کو جانچنے کے لئے کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی ایک رکن جین اوگدن نے بی بی سی نیوز آن لائن کو بتایا کہ اس نوعیت کے مشن پر جانے والوں کے پاس بے پناہ فالتو وقت ہوتا ہے جب انہیں اپنے کیمپوں میں گھس کر بیٹھنا پڑتا ہے۔ لیکن پھر ایسا موقع بھی آتا ہے کہ انہیں باہر نکل کر خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف برطانوی وزارت دفاع کی ایک ترجمان نے سروے کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور انہیں پرانے اور غیر متعلق کہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||