BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2003, 13:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی امراض کی روک تھام
حیدرآباد
جسم فروشی کرنے والوں کو محفوظ جنسی تعلق کی ترغیب

تحریر: علی حسن، بی بی سی، حیدراباد

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں جنسی تعلقات کے نتیجے میں ایچ آئی وی اور ایڈز جیسے امراض سے متعلق آگاہی کے لئے ایک دو سالہ منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کے تعاون سے شروع کئے جانے والے اس منصوبے کے لئے حیدرآباد چنا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت حیدرآباد کے بازارِ حسن کی پیشہ ور جسم فروش عورتوں کو محفوظ جنسی تعلقات کے سلسلے میں تربیت دی جائے گی۔

منصوبے کے پروجیکٹ سپروائزر ڈاکٹر شمس ایچ صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ’ پیشہ ور جسم فروشوں میں وہ ایک ایسا گروپ ہے جس کا رویہ نہایت خطرناک ہے۔

پاکستان کے اندر ایڈز کے مریض ایک فی صد سے کم ہیں۔ جسم فروش خواتین میں جنسی بیماریاں ہوتی رہتی ہیں کیونکہ انہیں معلومات سے آگاہی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر ہم انہیں احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتاتے ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے۔

ڈاکٹر شمس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تربیت کے دوران جسم فروش عورتوں کو غیر فطری جنسی تعلقات کے مضر رساں نتائج سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

اس منصونے کے تحت ایک خاتون ڈاکٹر عشرت شاہ کو بھی مقرر کیا گیا ہے جو روزانہ چھ گھنٹے ان خواتین کے لئے کلینک چلانے کے ساتھ ساتھ جسم فروش عورتوں کی مشاورت کے فرائض بھی انجام دیں گی۔

ڈاکٹر شاہ ان عورتوں میں موجود بیماریوں اور ان کے تدارک کے سلسلے میں بتاتی ہیں ’ خاص طور پر یہ جبکہ ان عورتوں کا چوبیس گھنٹے کا کام ہے تو انہیں اپنی جان بھی بچانی ہوتی ہے لہذا ہم ان کو مختلف مشورے دیتے ہیں‘۔

منصوبے کے آغاز پر ان خواتین نے اسے خوش آمدید کہا ہے اور بازار ہی کی خواتین نے آگے بڑھ کر اپنی رضاکارانہ خدمات بھی پیش کی ہیں۔

کرن ایسی ہی خاتون ہیں، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پچاس فی صد لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہاں پر کلینک کیسے اور کیوں کھلا ہے۔ حقیقت یہ ہے کچھ لوگوں کو ڈر بھی لگ رہا ہے جبکہ کچھ ان کا ساتھ بھی دے رہے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ میں خود بھی ان کا ساتھ دے رہی ہوں۔ انہوں نے صحت کے لئے یہ اچھا ذریعہ بنایا ہے‘۔

حیدرآباد میں جہاں کبھی جسم فروشی کا کاروبار بڑے عروج پر تھا، اب تو سمٹ کر بہت محدود ہوگیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر شمس کے مطابق جتنے بھی لوگ ہیں انہیں کم از کم موذی بیماریوں سے آگاہ تو کیا جائے تاکہ وہ اپنا خیال رکھ سکیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد