بھارت: عورت کو ہل جوتنے کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی ایک برادری پنچایت نے ایک خاتون کو ہل میں بیل کے ساتھ باندھ کر کھیت جوتنے کی سزا دی ہے۔ نا گین گاؤں میں صدیوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر مرد کی جگہ کوئی خاتون کھیت جوتنے کے لیے ہل پکڑتی ہے تو پورا گاؤں خشک سالی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس علاقے میں اگست کے آخر سے بارش نہیں ہوئی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے انہیں دنوں اپنے کھیت میں ہل چلایاتھا ۔ قبائلیوں کے اس علاقے میں بعض افراد نے انتردیشیہ بائی کو اس وقت کھیت جوتتے دیکھا تھا جب وہ اپنے شوہر رام جنک کے ساتھ وہاں کام کر رہی تھیں۔ جب اس واقع کی خبر گاؤں کے بزرگوں تک پہنچی تو انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ بارش کے دیوتا ناراض ہو گئے ہیں اور اسی وجہ سے علاقے میں بارش نہیں ہو رہی ہے۔ اس کے بعد علاقے کی برادری پنچایت نے بارش کے دیوتا کو خوش کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ انتردیشیہ کو بیل کے ساتھ ہل میں باندھ کر کھیت جوتا جائے۔ پولیس اس معاملے میں اب تک کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون نے کسی طرح کا کیس درج کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر اے این اوپادھیاے نے بی بی سی کو بتایا کہ انتردیشیہ کاکہنا ہے اس نے گاؤں والوں کا حکم مانا ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ علاقے میں خشک سالی پیدا ہو جائے ۔ پولیس اس معاملے پر صلاح مشورہ کر رہی ہے۔ پولیس کی کوشش ہے کہ قانون کے تحت ایسا کوئی راستہ تلاش کیا جائے جس سے علاقے میں پھیلے ہوئی تواہم پرستی اور جادوگری کے چلن پر قابو پایا جا سکے۔ اس علاقے میں توہم پرستی عام ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ بیشتر خواتین اکثر ’آسیب کے اثر‘ میں رہتی ہیں۔ انہیں اس نام نہاد بھوت پریت کے اثر سے نکالنے کے لیے طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ کئی بار ان خواتین کو سزا کے طور پر انسانی غلاظت بھی کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور کئی بار تو انہیں زندہ بھی جلا دیا جاتا ہے- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||