بھارتی بیواؤں کے حالِ زار کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے پانچ سال پہلے جب بھارتی فلم ڈائریکٹر دیپا مہتا نے معاشرے میں بیواؤں کے استحصال پر فلم بنانے کی کوشش کی تو انہیں اور ان کے عملے کو ہندو لیڈروں کے تشدد کی وجہ سے کام روکنا پڑا تھا۔ لیکن آج کل پھر کیمرے کی آنکھ بھارت میں بیواؤں کے حالِ زار کو دیکھ رہی ہے۔ ایک بھارتی نژاد امریکی ڈائریکٹر کی فلم white rainbows ( وائٹ رینبوز ) بھارتی معاشرے میں بیواؤں کے ساتھ ناروا سلوک کی کہانیوں پر مبنی ہے جس میں ان عورتوں کے ساتھ جسمانی تشدد کے علاوہ جنسی زیادتی کےمناظر بھی ہیں۔ بھارت میں بیواؤں کی زندگی کی ایک جھلک یہ ہے کہ شام کے دامن میں چھپتی ہوئی دوپہر کے وقت لگ بھگ تین سو عورتیں اپنی ساڑھیوں کے پلو سے چہروں کی ہڈیاں چھپائے سنگِ مرمر کے فرش پر بیٹھی ہیں۔ دہلی سے دو سو کلو میٹر دور ورنداوان شہر میں واقع بیواؤں کے سب سے بڑے مسکن میں دوسری شفٹ چل رہی ہے۔ کئی بیواؤں کے سروں کو مونڈھ دیا گیا ہے۔ ہر ایک نے جسم کو ایسے رنگ کے لباس سے ڈھانپ رکھا ہے جو صرف غم سے مسنوب ہے۔ ہر بیوہ کو انتظار ہے کہ وہ دن کب آئے گا جب وہ اس زندگی کے خاتمے پراپنے شوہر کے پاس ہوگی۔ بوجھل آنکھیں نیند کو ترس رہی ہیں لیکن انہیں بند نہیں ہونا کیونکہ اس شفٹ ہی سے انہیں دال اور چاول کی ایک پلیٹ مل سکے گی جو انہیں زندہ رکھ سکے گی۔ اور یہیں سے فلم کا آغاز ہو جاتا ہے۔ وائٹ رینبوز میں ورنداوان کی چار بیواؤں کی کہانی ہے جن کی آبروریزی کی گئی جن کے چہرے مسخ ہوگئے اور اہلِ خانہ نے جنہیں چھوڑ دیا۔ یہ فلم موہنی نامی اس لڑکی کی سچی کہانی بھی ہے جو آج بیواؤں کے حقوق کے لیے بلند ہونے والی ایک اہم آواز ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ فلم سچائی پر مبنی ہے مگر یہ سچائی بڑی گھناؤنی ہے۔ ’ظلم کی ایک نہیں کئی جہتیں ہیں۔یہ بھوک کی شکل میں بھی سامنے آتا ہے، سر چھپانے کی جگہ نہ ہونے کی محرومی بھی بن جاتا ہے اور جہالت کی تاریکی میں چھپ کر بھی حملہ آور ہو جاتا ہے۔ بیواؤں کو ان مردوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ان کی تذلیل بھی کرتے ہیں اور ان کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔‘ دھرن مندرایار جو فلم کے ڈائریکٹر ہیں اور کیلی فورنیا میں رہائش پذیر ہیں کہتے ہیں کہ انہیں یہ جان کر شدید صدمہ ہوا تھا کہ بھارت میں بیوائیں ان برے حالوں میں رہتی ہیں۔ ’یہ ناقابلِ یقین ہے کہ خاندان اپنی ماؤں سے بھی کنارہ کش ہوجائیں۔ اسی لیے تو ہم نے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔اس فلم سے اگر ایک دو ذہن بھی بدل گئے اور انہوں نے بہتری کی ٹھان لی تو ہم سمجھیں گے کہ ہماری محنت کا پھل مل گیا۔‘ بھارت کی اکثر بیوائیں سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ تقدیر کا لکھا ہے۔ انتیس سالہ انیتا یادو کہتی ہیں کہ شوہر کے انتقال کے بعد وہ ورنداوان چلی گئیں کیونکہ ان کا دیور ان کے ساتھ زیادتی کرتا۔ گھر والوں سے دیور کی شکایت بے سود تھی کیونکہ وہ اسی کی حمایت کرتے۔ ’مجھے کہا جاتا یا اس سے شادی کر لو یا دفع ہوجاؤ۔‘ لیکن انیتا کو اب ایک محفوظ جگہ مل گئی ہے جو موہنی نے بنائی ہے۔ موہنی پر فلم وائٹ رین بو کے ہدایتکار کے ساتھ مل کر اپنا پیغام عام کرنے کی دھن سوار ہے۔ موہنی کی پناہ گاہ میں بیوائیں رنگ برنگی ساڑھیاں پہن سکتی ہیں کہ کوئی انہیں طعنہ نہیں دے گا۔ وہ چاہیں تو دعا کر سکتی ہیں اور چاہیں تو ٹی وی دیکھ سکتی ہیں۔ ان کے لیے یہ چھوٹی چھوٹی آزادیاں بہت اہم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||