BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوہر سے طلاق، سسر سے شادی

فائل فوٹو
پولیس متاثرہ لڑکی کے سسر کو تلاش کر رہی ہے۔
ہندوستان کی ریاست اتر پریش میں آبرو ریزی کا ایک انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ خبروں کے مطابق ایک برادری پنچائت نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ایک خاتون کا شوہر ہی اس کا سوتیلا بیٹا بن جائے گا۔

مظفرنگر شہر کے چرتھال قصبے کی 35 سالہ عمرانہ کی آبرو ریزی خود انہیں کے سسر نے کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انکے شوہر گھر پر موجود نہیں تھے۔ عمرانہ نے جب اس پورے واقعہ کا ذکر اپنے شوہر سے کیا تو اپنے والد کے خوف سےاس نے خاموشی اختیار کر لی۔

شوہر کے اس رویے سے پریشان عمرانہ نے اپنے بھائی کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ کسی طرح اس واقعہ کی خبر گاؤں میں پھیل گئی۔

گاؤں میں پنچائت طلب کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ عمرانہ اب اپنے شوہر کے لائق نہیں رہ گئیں ہیں اور انہیں فوراً اپنے شوہر کو طلاق دینی ہوگی اور سسر سے شادی کرنا ہوگی۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پنچائت نے عمرانہ سے اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

اس معاملے کے بارے میں مظفر نگر کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار امریندر سنگھ سنگیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پو لیس نے عمرانہ کے سسر کے خلاف آبروریزی کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ پولیس نے عمرانہ کا بیان لے لیا ہے اور ان کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے۔ پولیس عمرانہ کے سسر محمد علی شاہ کو تلاش کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا جلال الدین عمری نے بتایا ہے کہ عمرانہ اور انکے شوہر کے درمیان اب کوئی رشتہ نہیں بچا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ نفسیاتی طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ جس خاتون کے ساتھ اسکے شوہر کے والد نے زیادتی کي ہو وہ دوبارہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگے۔کیونکہ اس کے لیے اپنے سسر کے حوالے سے اس رشتے کو برقرار رکھنا ایک اعصابی مسئلہ بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سسر کو تو انہیں تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت سزا ملنی چاہئے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور سرکردہ وکیل ظفریاب جیلانی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں برادری پنچایت کو کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آبروریزی کے بعد اپنے شوہر کی ماں ہو گئی ہیں یہ انتہائی لغو ہے اور ملزم کو اس کی سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں مذہبی تنظیموں کو فوراً مداخلت کرنی چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد